Al-Risala · September 1981 · page 43

محبت کے بجائے نفرت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳

محبت کے بجائے نفرت

"میں مراد آباد میں پیدا ہوا۔ پھر دس برس بجنور میں رہا۔ ۱۶ برس دہلی میں اور اب ۳۵ برس سے حجاز میں ہوں۔ حضرت شاہ عبدالعزیز کے فتوے کی بنا پر میں ہندوستان کو دار الحرب جانتا تھا اور اس کے قیام کو حرام۔ اسی نظریہ کے تحت انگریزی دور میں ہندوستان سے ہجرت کی، بلکہ ہجرت شرعی سے بھی کچھ زیادہ۔ یہ معاملہ میری نظر میں اتنا سنگین تھا کہ حجاز آنے کے بعد دوبارہ ہندوستان واپس جانے کے تصور کو بھی میں ناجائز خیال کرتا تھا۔ ایک بار میں بیوی کے استھ حج کے لئے گیا ہوا تھا۔ عرفات کا میدان تھا اور عصر و مغرب کے درمیان کا وقت۔ یہ وقت میدان عرفات میں گناہوں کی بخشش کا ہوتا ہے میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ یہ گناہوں کی معافی کا وقت ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ حقوق العباد کا ہوتا ہے۔ مجھ سے تمھارے حقوق کی ادائیگی میں جو کوتاہی ہوئی ہو اس کو معاف کر دو۔ بیوی نے کہا کہ ایک شرط ہے ۔ وہ یہ کہ تم مجھ کو ہندوستان لے جا کر ایک بار مجھے میرے عزیزوں سے ملا دو ۔ ہندوستان کا نام سن کر میرے ہوش اڑ گئے ۔ میں اور ہندوستان ۔ پھر میں نے اپنے دل میں سوچا کہ ایک طرف دوزخ ہو اور دوسری طرف ہندوستان تو تم دونوں میں سے کس کو ترجیح دو گے۔ اس کے بعد میں نے جو فیصلہ کیا وہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں "

یہ ایک بزرگ کی خود نوشت کہانی کا ایک حصہ ہے جو انھوں نے دہلی کے ایک اردو روزنامہ (۱۵ اگست ۱۹۸۱) میں شائع کی ہے۔ یہ کوئی ایک کہانی نہیں، اس قسم کی ان گنت کہانیاں ہیں جو ساری مسلم دنیا میں بکھری ہوئی ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں ایسے بے شمار لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے غیر مسلم قوموں کو اسلام کا حریف سمجھ کر ان سے نفرت کی، مگر وہ ان کو اسلام کا مدعو اور مخاطب سمجھ کر ان سے محبت نہ کر سکے۔ ان خیالات کے تحت بے شمار لوگ ایسے ہجرت اور جہاد میں مصروف رہے جس کا کوئی فائدہ نہ دینی صورت میں نکلنے والا تھا اور نہ دنیوی صورت میں ۔ کیسی عجیب بات ہے۔ لوگوں نے ہندوستان کو دار حرب سمجھا مگر وہ اس کو دار دعوت نہ سمجھ سکے ۔ ہندوؤں کو انھوں نے غیر قوم قرار دیا مگر وہ ان کو مدعو قوم قرار نہ دے سکے۔ انگریزوں اور فرانسیسیوں کو لوگوں نے شیطان کے بندے کہہ کر ان کے خلاف جہاد کیا مگر وہ ان کو خدا کے بندے سمجھ کر ان کو خدا سے قریب لانے کی کوشش نہ کر سکے ۔ انھوں نے مسلم حکمرانوں اور بادشاہوں کو ظالم ٹھہرا کر ان کی ہلاکت کے منصوبے بنائے مگر وہ ان کو اپنا بھٹکا ہوا بھائی جان کر ان کی اصلاح کی خیر خواہانہ کوشش نہ کر سکے ۔ کیسی عجیب تھی یہ ہجرت اور کیسا عجیب تھا یہ جہاد۔ سا عجیب و غریب ہجرت اور جہاد کے نتیجہ میں اگر موجودہ دنیا میں اسلام کو غلبہ حاصل نہ ہو سکا تو اس میں عجب کی کوئی بات نہیں۔

رسالہ ستمبر ۱۹۸۱

‹ Previous page Next page › Contents of September 1981 All issues

Printed page