Al-Risala · October 1981 · page 4

سنت رسول

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴

فيها ذكر النة والنار حتى اذا تاب الناس جنت اور جہنم کا تذکرہ ہے۔ یہاں تک کہ جب لوگوں الى الاسلام نزل الحلال والحرام ولو کے دل اسلام کے لئے ہموار ہو گئے تو حرام و حلال کی نزل اول ما نزل لا تشربوا الخمر لقالوا آیتیں اتریں۔ اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ شراب نہ پیو تو لا ندع الخمر ابدا ولو نزل لا تزنوا لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ اور اگر لقالوا لا ندع الزنا ابدا (بخاری باب تالیف القرآن)

رمضان ۸ھ میں مکہ فتح ہوا۔ اس کے بعد عرب کا مرکز قیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ میں آگیا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ آپ نے بیت اللہ سے متعلق شرعی احکام کا فوری نفاذ نہیں فرمایا۔ بلکہ جو کچھ کرنا تھا تدریج کے ساتھ کیا۔ فتح مکہ کے بعد اسلامی اقتدار قائم ہونے کے باوجود ۸ھ میں حج ہوا وہ بدستور قدیم جاہلی رواج کے مطابق ہوا۔ اس کے بعد ۱۰ھ میں اسلامی دور کا دوسرا ج حج اس طرح کیا گیا کہ مسلمانوں نے اپنے طریقہ پر حج کیا اور مشرکین نے اپنے طریقہ پر۔ پھر جب ۹ھ میں تیسرا حج آیا تو آپ کے حکم کے مطابق اس کو خالص اسلامی طریقہ پر انجام دیا گیا۔ یہی دور اسلامی کا تیسرا حج ہے جو اسلامی تاریخ میں حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔

طبعی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سخت ناپسند تھی کہ مشرکین بیت اللہ میں آئیں اور اپنے مشرکانہ رواج کے مطابق حج کے مراسم ادا کریں۔ مگر اقتدار حاصل ہونے کے باوجود آپ نے شریعت کے نفاذ میں جلدی نہیں کی۔ فتح مکہ کے بعد دو سال تک آپ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ نہیں گئے۔ حج کا موسم آیا تو آپ نے فرمایا: مشرکین بیت اللہ میں آئیں گے اور ننگے ہو کر حج کریں گے۔ مجھے پسند نہیں کہ میں حج کروں جب تک یہ چیزیں ختم نہ ہو جائیں (انما يحضر المشركون فيطوفون عراة فلا احب ان احج حتى لا يكون ذلك ، تفسير ابن کثیر، سورہ توبہ)

فتح مکہ کے بعد پہلے سال (۸ھ) میں مسلمانوں نے حج کیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے۔ دوسرے سال (۹ھ) میں آپ نے مسلمان حاجیوں کا قافلہ حضرت ابو بکر کی قیادت میں مدینہ سے مکہ روانہ کیا۔ اس کے بعد قرآن میں یہ حکم اترا کہ مشرکین نجس ہیں، اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں (توبہ ۲۸) چنانچہ آپ نے حضرت علی کو مکہ بھیجا اور حکم دیا کہ حج کے اجتماع میں گھوم گھوم کر یہ اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کے لئے نہ آئے اور اب سے کوئی شخص ننگی حالت میں کعبہ کا طواف نہ کرے (لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عریان) اس طرح تیسرے سال

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page