Al-Risala · January 1981 · page 45

اسلامی نقطہ نظر

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۴۵

ہوتا ہے کہ زندگی اور کائنات کی تخلیق بیک وقت نہیں ہوئی بلکہ مختلف ادوار میں ہوئی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے زمین و آسمان اور اس کی چیزوں کو چھ دن ، بالفاظ دیگر چھ ادوار میں پیدا کیا (فرقان ۵۹) ان چھ ادوار کی تقسیم قرآن کے تتبع سے اس طرح کی جاسکتی ہے :

۱۔ ابتدائی منجمد مادہ کی تخلیق (انبیاء ۳۰)

۲۔ زمین و آسمان یعنی غیر ذی روح اشیاء کی تخلیق (انبیاء ۳۰)

۳۔ زمین کو پھاڑ کر پانی نکالنا (نازعات ۳۱)

۴۔ مختلف قسم کی سبزی اور ہریالی اگانا (نازعات ۳۱)

۵۔ مختلف قسم کے حیوانات پیدا کرنا (نحل ۵)

۶۔ انسان پیدا کرنا (آل عمران ۵۹)

بعض احادیث سے بھی اس تخلیقی ترتیب کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً صحیح مسلم کی بیک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : ان اللہ تعالیٰ خلق الشجی فی یوم کن امن الایام اللہ نے تخلیق کے چھ دنوں میں سے ایک دن درخت پیدا الستۃ ثم خلق الحيوانات (۲۱۳) کیا۔ اس کے بعد اس نے حیوانات کو پیدا کیا۔

ارتقاءء کے سلسلہ میں اب تک جو تحقیقات ہوئی ہیں وہ غیر معمولی طور پر زیادہ ہونے کے باوجود نفس نظریہ ارتقاء کو ثابت کرنے میں ناکام ہیں۔ اب تک کوئی حقیقی ثبوت اس بات کا نہیں مل سکا کہ بے جان مادہ سے کسی قسم کے طبعی حالات کے اندر جاندار جسم از خود بن کر تیار ہو جاتا ہے۔ یہایہ کہ توالد و تناسل کے درمیان مخصوص طبعی اسباب کے تحت ایک قسم کے جانور کے پیٹ سے دوسری قسم کے جانور ارتقائی طور پر نکل آتے ہیں۔ یہ چیزیں اب تک محض مفروضات ہیں۔ تاہم مختلف علمی میدان میں اس بات کے شواہد ملے ہیں جن سے اخذ ہوتا ہے کہ زندگی کے مختلف انواع کی آباد کاری زمین پر ایک ہی وقت میں نہیں ہوئی بلکہ مختلف اوقات یا ادوار میں ہوئی ہے۔ قرآن میں پہلے جز ر کے حق میں کوئی تصدیقی چیز موجود نہیں ہے اس لئے عقل اور نقل دونوں پہلو سے وہ ناقابل اعتبار ہیں۔ البتہ ارتقاء کے دوسرے جز ر (تخلیق میں زمانی ترتیب) کے متعلق قرآن وحدیث میں ایسے اشارات موجود ہیں جو اس کی تائید کرتے ہیں۔ قرآن وحدیث کے مذکورہ اشارات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے وہ اب تک کے معلوم شدہ حقائق کے پوری طرح مطابق ہے اب تک جو حقائق انسان کے علم میں آئے ہیں وہ صرف یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ مختلف انواع حیات اور اسی طرح مختلف قسم کی مادی اشیاء بھی) ایک وقت وجود میں نہیں آئیں بلکہ ایک خاص ترتیب کے ساتھ ایک کے بعد ایک وجود میں آئیں یہ تخلیق میں زمانی فرق کی بات ہے اور یہ بات قرآن وحدیث کے اشارات کے مطابق ہے۔ اس کے آگے جب نظریہ ارتقا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ پہلا جاندار بے جان مادہ سے خود بخود نکل آیا اور اسی طرح مختلف انواع حیات ایک دوسرے کے پیٹ سے اپنے آپ نکلتی رہیں (مثلاً کیڑے کے پیٹ سے مچھلی، مچھلی کے پیٹ سے چڑیا، بکری کے پیٹ سے گھوڑا) تو یہ ارتقاء کا محض ایک دعویٰ ہوتا ہے جس کو اب تک کسی دلیل سے ثابت نہ کیا جا سکا۔ لسان! جنوری ۱۹۸۱ء

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page