اسلامی نقطہ نظر
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۴
میں ہوتا ہے ۔
ارتقاءء بجائے خود کوئی مشاہداتی چیز نہیں ۔ وہ صرف ایک نتیجہ (Conclusion) ہے جس کو ایک آدمی کچھ واقعات کو دیکھ کر اخذ کرتا ہے ۔ مگر ارتقا کے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں جو دوسرے متبادل مفروضات کو رد کرتی ہو۔ مثلاً زمین کی کھدائی سے زندہ اجسام کے پتھریلے ڈھانچے (Fossils) برآمد ہوئے ہیں۔ یہ ڈھانچے نیچے اوپر کی تہوں میں ہیں ، اس طرح ان سے زمین پر حیوانات کے بسنے کی تاریخ معلوم ہوتی ہے ۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ زمین پر تمام حیوانات بیک وقت موجود نہ تھے بلکہ ایک کے بعد ایک آباد ہوئے ۔ پہلے ادنیٰ حیوانات اور اس کے بعد دھیرے دھیرے اعلیٰ حیوانات یہاں تک کہ آخر میں انسان آباد ہوا۔ اس سے ارتقا کے حامی یہ نظریہ اخذ کرتے ہیں کہ پچھلی حیاتیاتی قسموں سے اگلی حیاتیاتی قسمیں بطریق تناسل برآمد ہوتی رہیں اور انھیں میں سے ایک نوع ترقی ترقی کرتے کرتے انسان بن گئی ۔
یہ ترتیب تخلیقی تاریخ کے طور پر صحیح ہو سکتی ہے ۔ تاہم اس کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں ہے کہ ایک نوع سے دوسری نوع توالد و تناسل کے ذریعہ وجود میں آئی ۔ اس سے زیادہ سے زیادہ جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ آباد کاری میں زمانی فرق ہے نہ کہ ایک کے پیٹ سے دوسرے کا نکلنا ۔ یہاں یکساں قوت کے ساتھ یہ دوسرا نظریہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ ہر نوع الگ الگ زمانی ترتیب کے ساتھ وجود میں آئی یعنی پہلے ایک نوع ، پھر دوسری نوع ، پھر تیسری نوع ، مثلاً یہ ممکن ہے کہ واحد الخلیہ جاندار پہلے پیدا کئے گئے ہوں ۔ اور پھر تر تیب وار دوسرے جانوروں کی تخلیق عمل میں آئی ہو۔ اس ضمن میں کم از کم ایک معلوم واقعہ ایسا ہے جو اس نظریہ کی تائید کرتا ہے ۔ اور وہ ہے مادی دور کے بعد پہلے ذی حیات کی پیدائش ۔
زمین پر آج مختلف قسم کے جان داروں کا ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ کبھی کوئی پہلا جان دار تھا ۔ آج کے جانداروں کی موجودگی ہی پہلے جان دار کا وجود ثابت کرنے کے لئے کافی ہے ۔ اس طرح خصوصی تخلیق (Special Creation) کا نظریہ ، کم از کم پہلے جان دار کی حد تک ، اپنے آپ ثابت ہے ۔ اس کے لئے کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں ۔ اب جب تک واقعاتی طور پر یہ ثابت نہ ہو جائے کہ بے جان مادہ سے اپنے آپ ایک زندہ جسم وجود میں آتا ہے اس وقت تک ہم یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ پہلا ذی حیات مستقلاً پیدا ہوا۔ وہ نہ کسی دوسرے ذی حیات سے وجود میں آیا اور نہ اب تک کے کسی ثبوت کے مطابق بے جان مادہ سے ۔ اس لئے ہمارے واسطے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ پہلے ذی حیات کو خصوصی طور پر پیدا شدہ مانیں اور پہلے ذی حیات کے بارے میں خصوصی تخلیق ماننے کے بعد ہمارے پاس کوئی بنیاد نہیں رہتی کہ ہم کیوں دوسرے انواع حیات کے بارے میں خصوصی تخلیق کو نہ مانیں ۔ اگر پہلا جان دار خصوصی طور پر پیدا ہو سکتا ہے تو بعد کے جان دار کیوں خصوصی طور پر پیدا نہیں ہو سکتے ۔
اسلامی نقطہ نظر
اس معاملہ میں جہاں تک اسلامی نظریہ کا تعلق ہے ، قرآن اور حدیث میں ایسے اشارے موجود ہیں جن سے ظاہر
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues