کام کا شوق
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۹
کام کا شوق
ایک تعلیم یافتہ شخص ایک مصروف ادارہ میں ہمہ وقتی ملازم تھے۔ اسی کے ساتھ وہ ایک انگریزی اخبار میں سب ایڈیٹر تھے۔ وہ مذکورہ ملازمت کی ذمہ داریاں پوری طرح نبھاتے تھے اور اسی کے ساتھ اخبار کی ادارتی ذمہ داریاں بھی۔ کسی شخص نے ان سے پوچھا آپ اتنا زیادہ کام کرتے ہیں۔ آپ کو وقت کیسے ملتا ہے۔ انھوں نے جواب دیا۔ وقت کوئی چیز نہیں، یہ صرف دلچسپیوں کی کارگزاری ہے:
Time is nothing but it is a function of interests. یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی کام کی تکمیل کے لئے اصل اہمیت وقت کی نہیں، اصل اہمیت دل چسپی کی ہے، یہ آدمی کی دل چسپی ہے جو اس سے کسی کام کو پورا کرا دیتی ہے۔ واقعی لگن اور شوق ہو تو کم وقت میں آدمی بہت سا کام کر لے گا۔ اور اگر شوق اور لگن نہ ہو تو زیادہ وقت بھی اس کے لئے تھوڑا بن جائے گا۔ ایک شخص کے پاس ملک کے باہر سے ایک پیش کش آئی۔ وقت صرف تین ہفتہ کا تھا، جب کہ اس کے پاس ابھی تک پاسپورٹ بھی نہیں تھا۔ موجودہ زمانہ میں بیرونی سفر کے لئے بہت سے قانونی تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ بظاہر وقت پر سفر کرنا انتہائی دشوار تھا۔ مگر اس نے رات دن ایک کر کے سارا کام پورا کر لیا اور ٹھیک تاریخ پر وہ ہوائی جہاز پر بیٹھ کر مطلوبہ ملک کو پرواز کر رہا تھا۔ دوسری طرف اسی قسم کا موقع ایک اور شخص کے لئے پیدا ہوا۔ وہ شہر سے دور دیہات میں تھا، اس نے اپنے ایک رشتہ دار کو جو شہر میں رہتے تھے، خط لکھا کہ میرے لئے شہر میں آنا مشکل ہے۔ آپ میرا یہ کام کرا دیجیے اور اس سلسلہ میں جو پیسہ خرچ ہوگا وہ سب میرے ذمہ ہوگا نہ رشتہ دار نے جواب دیا کہ اچھا میں کوشش کروں گا۔ مذکورہ شخص ان کے اطمینان پر رہ گیا۔ اس کے پاس پورے دو مہینے کا وقت تھا مگر اس کا کوئی کام نہیں ہوا اور وہ باہر نہ جا سکا۔ آخر میں مذکورہ رشتہ دار کا پیغام ملا کہ فلاں وجہ پیش آگئی اس وجہ سے میں تمھارا کام نہ کر سکا۔ یہ زبانی پیغام تاخیر نے اس وقت پہنچا جب کہ وقت گزر چکا تھا۔ پہلے شخص نے اپنا کام سمجھ کر دل چسپی لی تو اس نے کم وقت کے باوجود کام کو پورا کر لیا۔ دوسرے شخص نے اپنے کام کی طرح دلچسپی نہیں لی اس لئے معمولی باتیں اس کے لئے عذر بن گئیں اور زیادہ وقت کے باوجود وہ کام کو انجام نہ دے سکا۔ آدمی کو جب کام کا شوق ہو تو اس کی عقل کے دروازے کھل جاتے ہیں، مقصد کو حاصل کرنے کی تڑپ اس کی قوتِ عمل کو بڑھا دیتی ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دنوں میں وہ کام کر لیتا ہے جس کو دوسرا شخص ہفتوں اور مہینوں میں بھی نہ کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues