حالات کی رعایت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۱
حالات کی رعایت
۱۹ جولائی ۱۹۸۱ کو دہلی - احمد آباد میل حسب معمول اپنے وقت پر روانہ ہوئی، مگر مہسانه اسٹیشن پر وہ چالیس منٹ لیٹ ہوگئی۔ ٹرین جب مہسانه سے آگے بڑھی تو ڈرائیور نے اس کو عام رفتار سے زیادہ تیز دوڑانا شروع کیا تاکہ وہ اپنے مقررہ وقت پر احمد آباد پہنچ جائے۔ ٹرین ڈنگروا سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر تھی کہ ڈرائیور نے دیکھا کہ آگے کی پٹری میں کچھ فش پلیٹیں غائب ہیں۔ اس نے فوری طور پر بریک لگایا تاکہ ٹرین کو روک کر حادثہ سے بچائے۔ مگر تیز دوڑتی ہوئی ٹرین اچانک بریک لگنے سے بے قابو ہوگئی۔ انجن اور اس کے ساتھ لگی ہوئی ۱۲ بوگیاں پٹری سے اچھل پڑیں اور پوری گاڑی اپنی پٹری چھوڑ کر کنارے کے کھڈ میں جاگری۔ کافی لوگ مرگئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔
اس واقعہ میں یہ سبق ہے کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ حالات کو نظر انداز کر کے اپنی زندگی کی گاڑی تیز دوڑانا شروع کر دیں۔ کیونکہ اس دنیا میں صرف آپ ہی نہیں ہیں بلکہ دوسرے بھی ہیں۔ یہاں صرف آپ برسرِ عمل نہیں ہیں بلکہ دوسرے بھی برسر عمل ہیں۔ ایسی ایک دنیا میں اسی شخص یا قوم کا سفر کامیاب ہو سکتا ہے جو خارجی حالات کو اچھی طرح سمجھے اور ان کی رعایت کرتے ہوئے اپنی گاڑی کو آگے بڑھائے۔ اگر یہ حکمت نہ برتی جائے تو راستہ میں کوئی بھی غیر موافق واقعہ پیش آکر ہمارے سارے منصوبے کو خاک میں ملا دے گا۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے بہت سے بڑے بڑے اقدامات کئے اور سب ناکام ہوتے چلے گئے۔ اس ناکامی کی توجیہہ ہر ایک کے پاس صرف ایک ہے: "فلاں کی سازش نے ان کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا"۔ مگر یہ عذر صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ مذکورہ اقدام میں حالات کی پوری رعایت شامل نہ تھی۔ خوش فہمی کے تحت اپنی گاڑی دوڑا دی گئی اور اس بات کا اندازہ نہیں کیا گیا کہ آگے کی پٹری پر ایک دشمن موجود ہے جو فش پلیٹ" نکال کر ہماری گاڑی کو الٹنے کا خفیہ منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔
"گاڑی"، خواہ مکمل طور پر آپ کی ہو مگر جس "سڑک" پر آپ کو اپنی گاڑی دوڑانی ہے وہ مکمل طور پر آپ کی نہیں۔ یہ حقیقت خواہ کسی کے لئے کتنی ہی تلخ ہو مگر بہر حال دہ ہے اور یہ ممکن نہیں کہ اس کو نظر انداز کر کے کوئی شخص اس دنیا میں کامیاب ہو سکے۔
جو لوگ اس حقیقت کو نظر انداز کر کے اپنی زندگی کی گاڑی دنیا کی سڑک پر دوڑائیں ان کے حصہ میں کبھی منزل نہیں آتی۔ واحد چیز جو اس دنیا میں ان کے لئے مقدر ہے وہ یہ کہ وہ اپنے ہر اقدام کے بعد ناکام ہوں اور پھر کسی نہ کسی "سازش"، کا انکشاف کر کے اس کے خلاف فریاد کرتے رہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues