یہ جہنمی قافلے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۴
یہ جہنمی قافلے
" ہر آدمی جنت کی تلاش میں ہے مگر ہر آدمی اپنی جنت کو دوزخ میں تلاش کر رہا ہے"، میری زبان سے بے ساختہ نکلا۔ "لوگ کانٹوں میں پھول کو ڈھونڈ رہے ہیں، وہ اپنی زندگی کو کھنڈر کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بہت جلد ان کے لئے ایک شان دار محل کھڑا ہونے والا ہے ۔ "
ہر آدمی اپنی زندگی کو سنوارنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی تجارت اور ملازمت کے میدان میں محنت کر رہا ہے۔ کوئی قیادت کے میدان میں اپنا نام اونچا کرنے کے لئے سرگرم ہے۔ کسی کا دماغ خوبصورت الفاظ کا کارخانہ بنا ہوا ہے تاکہ وہ عوام کی بھیڑ کو زیادہ سے زیادہ اپنے گرد جمع کر سکے۔ ہر آدمی اپنے ذہن میں اپنے مستقبل کا ایک سہانا خواب لئے ہوئے ہے اور ہر آدمی اپنے خواب کو واقعہ بنانے میں رات دن مصروف ہے۔ مگر لوگوں سے قریب ہو کر ان کو دیکھنے تو معلوم ہوگا کہ اپنے خوابوں کی دنیا کو حاصل کرنے کے لئے لوگوں کے پاس عملِ غیر صالح کے سوا کوئی سرما یہ نہیں ۔
آدمی اپنے رشتہ داروں کے حقوق سے بے پروا ہو کر اپنے بچوں کا مستقبل بنانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے پڑوسیوں کو دکھ پہنچا کر دور کے لوگوں میں خوش نام ہونے کی تدبیریں کر رہا ہے۔ وہ اپنے ذاتی معاملات میں بے انصافی کر کے باہر کی دنیا میں انصاف کا علم بردار بنا ہوا ہے۔ وہ اپنے خلاف ایک لفظ سننے کے لئے تیار نہیں مگر دوسروں کے خلاف سب کچھ کہنے اور کرنے کے لئے وہ اپنے آپ کو خدائی فوج دار سمجھتا ہے۔ خدا نے اپنی دنیا میں انسان کے لئے وہ سب کچھ رکھا ہے جو وہ چاہتا ہے، بلکہ اس سے زیادہ بھی۔ مگر خدا کی دنیا میں ہر اچھی چیز کو پانے کا ذریعہ اچھا عمل ہے۔ خدا کا انعام ان لوگوں کو ملتا ہے جو اپنے مستقبل کے حقوق ادا کریں۔ جو اپنے پڑوسیوں کو اپنے شر سے بچائیں۔ جو اپنے اہل معاملہ کے ساتھ انصاف کریں۔ جو خود پسندی کے بجائے خدا پسندی کے اوپر اپنی زندگیوں کو اٹھائیں۔ جو لوگوں سے حق اور عدل کی بنیاد پر معاملہ کریں نہ کہ اکڑ اور خود غرضی کی بنیاد پر۔ جو حق کے آگے جھک جائیں چاہے وہ ان کے خلاف کیوں نہ ہو۔ جو اپنی انا کو خدا کے حوالے کر دیں اور خدا کی دنیا میں بے انا بن کر رہنے پر راضی ہو جائیں۔ لوگ جہنمی انگاروں میں کودتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ خوبصورت پھولوں سے کھیل رہے ہیں۔ وہ دوزخ کے راستوں میں دوڑ رہے ہیں اور خوش ہیں کہ بہت جلد وہ جنت کے باغوں میں پہنچنے والے ہیں۔ آہ وہ قافلہ جس کے پاس جھوٹی خوش فہمی کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔ آہ وہ لوگ جو خدا کی دنیا میں اپنے لئے ایک ایسی دنیا بنانا چاہتے ہیں جس کی خدا نے اجازت نہیں دی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues