تدریجی ارتقاء کا ثبوت نہیں
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۵
تدریجی ارتقاء کا ثبوت نہیں
حالیہ تحقیقات نے ارتقاء کے مفروضہ کو عملی طور پر بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ مثلاً متحجرات (Fossils) کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ نظریہ ارتقاء کا یہ مفروضہ مشاہدات کے مطابق نہیں ہے کہ زندگی کی ایک نوع کروڑوں سال میں ہلکی ہلکی تبدیلی سے دوسری نوع کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ مثلاً ڈارونزم میں یہ فرض کیا گیا تھا کہ لومڑی کی نسلوں میں رفتہ رفتہ تبدیلیاں ہوئیں جس کے نتیجہ میں ساٹھ ملین سال کے بعد لومڑی نے گھوڑے کی صورت اختیار کرلی۔ مگر تازہ دریافتیں بتاتی ہیں کہ زندگی کی انواع میں تبدیلی (اگر اس کو تبدیلی کا نام دیا جائے) بالکل اچانک ہوتی ہے یعنی " لومڑی " بالکل اچانک ایک ہی نسل میں گھوڑا بن جاتی ہے۔ زمین کی تہوں میں قدیم زمانہ کے حیاتیاتی آثار جو پتھریلی ہڈیوں یا ڈھانچوں کی صورت میں دفن ہیں وہ قدیم مفروضہ کی مطلق تصدیق نہیں کرتے۔
ہارورڈ یونیورسٹی (امریکہ) کے پروفیسر اسٹیفن جے گولڈ (Stephen Jay Gould) نے جدید شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ متحجرات کے ریکارڈ کے مطابق انواع حیات کروڑوں سال تک بغیر بدلے ہوئے ایک حالت پر باقی رہتی ہیں اور پھر بالکل اچانک ایک نوع غائب ہو کر دوسری نوع سامنے آ جاتی ہے جو بنیادی طور پر پہلی سے مختلف مگر واضح طور پر پہلی کے مشابہ ہوتی ہے:
For millions of years species remain unchanged in the fossil record, and then they abruptly disappear to be replaced by something substantially different but clearly related. The Sunday Times (London) 8 March 1981 متحجرات کے مطالعہ میں ایک نوع کروڑوں سال تک بالکل یکساں حالت میں نظر آتی ہے۔ اس کے بعد ایسے فاصل ملتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ اچانک ایک نوع سامنے آگئی۔ اس طرح تدریجی تبدیلی کا نظریہ سراسر باطل ثابت ہو جاتا ہے۔ تاہم فاصل کے مطالعہ سے جو بات معلوم ہوئی ہے وہ صرف ایک قسم کے جاندار کے متحجر ڈھانچہ کے بعد اچانک دوسری قسم کے جاندار کے متحجر ڈھانچہ کا ملنا۔ یہ سوال ابھی بدستور حل طلب ہے کہ نئی نوع پچھلی نوع کے بطن سے نکلی یا آزادانہ طور پر وجود میں آئی جس طرح زمین کا پہلا جاندار آزادانہ طور پر وجود میں آیا تھا۔ ارتقاء کے حامیوں کا خیال تھا کہ پہلے جاندار کے متعلق اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ اچانک پیدا ہو گیا تو دوسری تمام قسم کے جانداروں کی پیدائش ارتقائی طور پر ثابت ہو جاتی ہے۔ مگر اب حقائق یہ ماننے پر مجبور کر رہے ہیں کہ جس طرح پہلا جاندار " اچانک " پیدا ہوا اسی طرح جانداروں کی دوسری تمام قسمیں بھی " اچانک " پیدا ہوئی ہیں۔ ارتقاء کا نظریہ جس طرح پہلے جاندار کی تشریح میں ناکام تھا اسی طرح وہ بعد کے جانداروں کی تشریح میں بھی ناکام ہو رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues