Al-Risala · October 1981 · page 17

انکار سے اقرار تک

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۷

انکار سے اقرار تک

پروفیسر چندر دکرما سنگھی (پیدائش ۱۹۳۹) سری لنکا کے ایک سائنس داں ہیں اور اس وقت یونیورسٹی کالج، کارڈ یف (برطانیہ) میں ریاضیات اور فلکیات کے استاد ہیں۔ اپنے فن میں انھوں نے عالمی شہرت حاصل کی ہے۔ وہ پروفیسر سر فریڈ ہائل کے ساتھ ۱۹۶۲ سے ایک تحقیق میں لگے ہوئے تھے۔ تحقیق کا موضوع یہ تھا کہ زمین پر زندگی کا آغاز کس طرح ہوا۔ دونوں پروفیسروں نے اپنی تحقیق کے نتائج ایک کتاب کی صورت میں شائع کئے ہیں جس کا نام ہے" ارتقا ر خلاصہ "

پروفیسر دکرما سنگھی نے تحقیق کا آغاز اس ذہن کے ساتھ کیا تھا کہ خالق کا تصور سائنس سے غیر مطابق ہے۔ وہ لکھتے ہیں: اپنی تحقیق کے آخری نتائج سے مجھے بڑا دھکا لگا۔ سائنسی تعلیم کے دوران شروع سے مجھے یقین دلایا گیا تھا کہ سائنس کسی بھی قسم کی ارادی تخلیق کے نظریہ سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتی۔ اس نظریہ کو بے حد دکھ کے ساتھ چھوڑنا پڑے گا۔ میرا ذہن مجھ کو جس طرف لے جا رہا ہے وہ میرے لئے سخت غیر اطمینان بخش ہے۔ مگر اس سے نکلنے کا کوئی منطقی راستہ موجود نہیں ۔

دونوں سائنس دانوں نے الگ الگ اس کا حساب لگایا کہ اتفاقی طور پر زندگی شروع ہونے کا ریاضیاتی امکان کتنا ہے۔ دونوں کی آزادانہ تحقیق اس مشترکہ نتیجہ پر پہنچی کہ اتفاقی پیدائش کا ریاضیاتی طور پر کوئی امکان نہیں۔ انھوں نے حساب لگا کر بتایا ہے کہ اتفاقی پیدائش کا امکان اگر " ایک " مانا جائے تو اس کے مخالف امکانات اتنے زیاوہ ہیں کہ ان کو شمار کرنے کے لئے ایک کے دائیں طرف چالیس ہزار صفر لگانے ہوں گے۔ ” یہ تعداد موجودہ حجم اور عمر (۱۵ بلین سال) کی کائنات میں اتنی ناقابل قیاس حد تک زیادہ ہے کہ مجھے صد فی صد یقین ہے کہ زندگی ہماری زمین پر اپنے آپ اچانک شروع نہیں ہو سکتی۔ “ کیمیائی اتفاق سے اچانک زندگی کا شروع ہونا اس قدر زیادہ بعید بات ہے کہ دہ بالکل لغو معلوم ہوتا ہے۔ یہ سوچنا بالکل معقول ہے کہ طبیعیات کے وہ اوصاف جن پر زندگی کا انحصار ہے وہ ہر اعتبار سے ارادی ہیں۔ دکرما سنگھی لکھتے ہیں " سر فریڈ ہائل مجھ سے زیادہ برتر خالق کی طرف مائل تھے۔ میں اکثر اس کے خلاف ان سے بحث کرتا تھا۔ مگر میں نے پایا کہ میں استدلال کی تمام بنیادیں کھو رہا ہوں۔ اس وقت میں کوئی بھی منطقی دلیل نہیں پا تا جس سے میں خدا کے نظریہ کو باطل ثابت کر سکوں۔ اگر میں کوئی دلیل پاتا، خواہ وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو تو میں اس کتاب کے لکھنے میں فریڈ کا شریک کار نہ بنتا۔ اب ہم محسوس کرتے ہیں کہ زندگی کے بارے میں واحد عقلی جواب یہی ہے کہ وہ تخلیق ہے نہ کہ کوئی ال ٹپ قسم کا الٹ پھیر۔ میں اب بھی اس امید پر ہوں کہ کسی دن میں دوبارہ خالص زمینی توجہیہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page