Al-Risala · October 1981 · page 18

تبصرہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۸

پیش کر سکوں ۔ ہم بحیثیت سائنس داں کے اس امید میں تھے کہ ہم کوئی راستہ پالیں گے ۔ مگر موجودہ تحقیقی نتائج کے مطابق اس کی کوئی صورت نہیں، منطق اب بھی مایوسانہ طور پر اس کے خلاف ہے۔

میں ایک بدھسٹ ہوں۔ اگرچہ کوئی پر جوش نہیں۔ اس اعتبار سے یہ میرے لیے کوئی مسئلہ نہ تھا ۔ کیونکہ بدھ مترم ایک بے خدا مذاہب ہے جو اس بات کا دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ تخلیق کے بارے میں کچھ جانتا ہے ۔ بدھ ھزم کے نظام میں خالق کا کوئی وجود نہیں ۔ مگر اب میں پاتا ہوں کہ میں منطق کے ذریعہ اسی مقام پر پہنچا دیا گیا ہوں۔ اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں جس سے ہم یہ سمجھ سکیں کہ مخصوص کیمیائی مادوں میں وہ حد درجہ درست نظام کیوں کر پایا جاتا ہے جس سے کائناتی سطح پر تخلیقات کا ظہور ہو۔

تبصرہ

پچھلی صدیوں میں یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ خدا کا وجود محض ایک ذاتی عقیدہ کی چیز ہے۔ اس کا علمی طرز فکر سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد مسلسل ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ انسان یہ ماننے پر مجبور ہورہا ہے کہ خدا کا وجود ایک علمی و عقلی نظریہ ہے نہ کہ محض ایک بے دلیل عقیدہ ۔

مگر سائنسی مطالعہ آدمی کو صرف اس مجرد حقیقت تک پہنچا رہا ہے کہ خدا کا وجود ہے۔ اس کے آگے یہ سوال ہے کہ خدا جب ہے جو اس کا انسان سے کیا تعلق ہے۔ مگر سائنس اس کے بارے میں ہمیں کوئی معلومات نہیں دیتی اور نہ دے سکتی ۔ یہ دراصل وہ مقام ہے جہاں سے مذہب کی سرحد شروع ہو جاتی ہے۔ اصولی طور پر تمام مذاہب اس سوال کا جواب ہیں ۔ مگر مذاہب کی موجودہ صورت بتاتی ہے کہ اسلام کے سوا کوئی مذہب اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں ۔ کوئی مذہب اس لئے باطل قرار پاتا ہے کہ اس میں سرے سے خدا کا تصور ہی موجود نہیں۔ کسی کا حال یہ ہے کہ وہ کئی خداؤں کا مدعی ہے۔ حالاں کہ تمام علوم یہ ثابت کر رہے ہیں کہ خدا اگر ہو سکتا ہے تو ایک ہو سکتا ہے ۔ کئی خدا کا ہونا ممکن نہیں۔ کسی مذہب کے نظام میں ایسے نظریات جگہ پا گئے ہیں جن کو انسانی ضمیر کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ مثلاً انسانوں کے درمیان رنگ اور نسل کی بنا پر فرق۔ اسی طرح دوسری باتیں ۔

علمی حقائق انسان کو خدا تک پہنچارہے ہیں اور خدا کو ماننے کے بعد اسلام کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ جب علمی مطالعہ یہ بتا رہا ہو کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے تو بے خدا مذہب اپنے آپ باطل ثابت ہو جاتے ہیں۔ جب کائناتی تحقیق یہ بتائے کہ اس کا پورا نظام ایک وحدت کے تحت چل رہا ہے تو ایسے مذاہب بے معنی ہو جاتے ہیں جو کائنات کے کئی خدا مانتے ہوں ۔ ایسی حالت میں آدمی مجبور ہے کہ وہ اسلام کو اپنا مذہب بنائے تو نہ صرف خدا کے صحیح تصور پر مبنی ہے بلکہ واضح طور پر یہ بھی بتاتا ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان کس قسم کا تعلق ہونا چاہئے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page