Al-Risala · October 1981 · page 23

زندگی کا ساز

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۳

دو قسم کے انسان

قرآن میں ہے کہ ہر جی اپنے کئے میں پھنسا ہوا ہے (کل نفس بماکسبت رهينة، المدثر ۳۸) لوگ خود اپنے کئے کے حوالے کردئے جائیں گے (اوذ ذرائع الدین أپسلو ا بما کسبوا، انعام (۷۰) قیامت میں لوگوں سے کہا جائے گا کہ چکھو جو تم کماتے تھے (ذوقوا ما کنتم تكسبون، الزمر ۲۴) یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ یہ تمہارا اپنا کیا ہے جو تمھاری طرف لوٹایا جائے گا (انماھی اعمالكم ترد اليكم) حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی ایک انڈسٹری (کارخانہ) ہے۔ مومن خدا کی انڈسٹری ہے اور غیر مومن شیطان کی انڈسٹری۔ ہر آدمی جو کچھ ہے اس کے مطابق وہ اپنی پیداوار کا ڈھیر لگارہاہے۔ خدا کے علم کے مطابق آدمی جب اپنے حصہ کا کام کر چکا ہوتا ہے تو اس پر موت آ جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی اگلی زندگی شروع ہوتی ہے جہاں وہ ابدی طور پر اپنی اگائی ہوئی فصل کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ جس نے کانٹوں کی فصل اگائی تھی وہ اپنے آپ کو کانٹوں میں پھنسا ہوا پاتا ہے اور جس نے پھول اور خوشبو کی فصل اگائی تھی وہ پھول اور خوشبو والے باغوں میں ہمیشہ کے لئے چلا جاتا ہے۔

انڈسٹری کیا ہے۔ انڈسٹری وہ نظام ہے جس کے اندر خام مال ڈالا جائے اور پھر وہ تیار شدہ سامان کی صورت میں برآمد ہو۔ ایک انسان وہ ہے جس کو خدا نے بڑائی دی تو اس نے تواضع کی صورت میں اس کا ردعمل پیش کیا۔ اس کا احتساب کیا گیا تو اس نے عجز کی نفسیات کے ساتھ اس کو قبول کیا۔ اس کے پاس دولت آئی تو اس نے خدا کے راستہ میں اس کا استعمال ڈھونڈ نکالا۔ اس کو مواقع ملے تو وہ ان مواقع میں اپنے آپ کو خدا کی خاطر دفن کرنے پر راضی ہو گیا۔ اس نے لوگوں کے اوپر قابو پایا تو وہ ان کے لئے انصاف اور خیر خواہی کا پیکر بن گیا۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اس بات کا ثبوت دیا کہ اس نے اپنے اندر خدا کی انڈسٹری قائم کی تھی۔ جو چیز بھی اس کے اندر داخل ہوئی وہ ربانی پیکر میں ڈھل کر باہر نکلی۔

دوسرا انسان وہ ہے جس کی انڈسٹری سے صرف زہر اور انگارے بر آمد ہوئے۔ اس کو جب موقع ملا تو اس نے اپنی بڑائی کا جھنڈا بلند کیا۔ اس کے پاس دولت آئی تو اس نے اپنی نمود و نمائش میں خرچ کیا۔ اس نے کسی کے اوپر غلبہ پایا تو اس کی بربادی کے منصوبے بنائے۔ اس کو کسی سے اختلاف ہوا تو اس کو اس نے زہریلے کلام اور آتشین عمل کا مزہ چکھایا۔ اس سے جب کسی کا معاملہ پڑا تو اس کو اس سے خود غرضی ، بے انصافی اور دھاندلی کا تجربہ ہوا۔

ایسا آدمی گویا اپنے اندر شیطان کی انڈسٹری قائم کئے ہوئے ہے۔ جو چیز بھی اس کے اندر داخل ہوتی ہے وہ زہر اور آگ اور بدبو بن کر اس کے باہر آتی ہے۔ موت کے بعد اس کی یہ پیداوار اسے گھیرلے گی۔ وہ اپنے آپ کو خود اپنے بنائے ہوئے جہنم میں پھنسا ہوا پائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page