Al-Risala · October 1981 · page 32

زندگی کا ساز

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۲

زندگی کا ساز

ایک ماہر نفسیات نے کہا ہے : مصیبت ، غم اور درد ہماری زندگی کو مزید پھیلاؤ عطا کرتے ہیں۔ جو لوگ سخت مشکلیں اٹھاتے ہیں وہ زندگی کا ہر پہلو سے تجربہ کرتے ہیں۔ وہ پیالہ کو اس کی تلچھٹ تک پی جاتے ہیں جب کہ دوسرے لوگ صرف اوپر کے بلبلوں ہی کو پاتے ہیں (ریڈرز ڈائجسٹ اپریل ۱۹۸۱) ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کو اور اس کے بچوں کو سکھ کی زندگی ملے۔ مگر سکھ کی زندگی ہی آدمی کی سب سے بڑی قاتل ہے۔ سکھ کی زندگی آدمی کے ظاہری جسم میں کچھ رونقوں کا اضافہ ضرور کردیتی ہے مگر ظاہری وجود کا یہ پر رونق اضافہ صرف اندرونی وجود کی رونقوں کو ختم کرنے کی قیمت پر حاصل ہوتا ہے۔

زندگی ایک مہربند ساز ہے۔ اس ساز کو جو چیز چھیڑتی ہے وہ غم ہے نہ مسرت۔ جب آدمی غم سے دوچار ہوتا ہے تو اس کی فطرت کا ساز بج اٹھتا ہے۔ اس کے اندرونی وجود میں چھپے ہوئے نغموں کا ریکارڈ بجنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ غم سے محروم ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ڈبے میں بند ہو کر شہر میں آیا اور اسی میں بند رہ کر واپس چلا گیا۔

ایک مغربی شاعر کا شعر ہے کہ " ہمارے سب سے زیادہ شیریں نغمے وہ ہیں جو سب سے زیادہ غمگین نغمے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ غم ناک آوازوں میں آدمی کی پوری شخصیت انڈیل اٹھتی ہے جب کہ مسرت نغموں میں آدمی اپنے آپ کو صرف جزئی طور پر ہی منتقل کر پاتا ہے۔ درد مند کلام آدمی کی پوری ہستی کو چھوتا ہے اور درد سے خالی کلام صرف اس کی ہستی کے جزء کو۔

مسرت خواہ ہم کو کتنا ہی پسند ہو مگر وہ ہمارے وجود کے صرف سطحی حصہ کو چھوتی ہے جب کہ غم ہمارے پورے وجود کو متاثر کرتا ہے۔ وہ ہماری رگ رگ میں اتر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غم کے ذریعہ آدمی اس سے زیادہ حقیقتوں کو پالیتا ہے جتنا مسرت کے ذریعہ ۔

فانی بدایونی (۱۹۳۰ - ۱۸۷۹) کے دو شعر یہاں نقل کرنے کے قابل ہیں ۔

لذت درد سے کم مایہ غم ہیں محروم جنسِ حرماں کو خدا عزت ارزانی دے میری ہوس کو عیش دو عالم بھی تھا قبول تیرا کرم کہ تو نے دیا دل دکھا ہوا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page