Al-Risala · October 1981 · page 40

ماں باپ کے ساتھ سلوک

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۰

ماں باپ کے ساتھ سلوک

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال : سألتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ای العمل احب الی اللہ نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل کون سا ہے۔ فرمایا قال الصلاة على وقتھا، ۔ قلت ثم ای ، قال بر وقت پر نماز پڑھنا۔ پوچھا اس کے بعد۔ فرمایا ماں الوالدین ۔ قلت ثم ای ، قال الجھاد فی سبیل اللہ باپ کے ساتھ اچھا سلوک ۔ پوچھا اس کے بعد۔ فرمایا۔ (رواه البخاری و مسلم ) اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔

عن عبد اللہ بن عمر وبن العاص ان رجلاً جاء ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال : جئت کہا کہ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ ہجرت پر بیعت ابایعک علی الھجرۃ و ترکت ابوی یبکیان ۔ قال کروں اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ارجع اليهما فا ضحكهما كما ابکیتھما ہے۔ آپ نے فرمایا اپنے ماں باپ کی طرف واپس جاؤ (رواه ابوداؤد ) اور ان کو ہنساؤ جس طرح تم نے ان کو رلایا ہے۔

عن انس رضی اللہ عنہ قال : اتی رجل رسول اللہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور صلی اللہ علیہ وسلم فقال اشتھی الجھاد ولا اقدر کہا کہ میں جہاد کی خواہش رکھتا ہوں مگر مجھے اس پر قدرت علیہ ۔ قال ھل بقى من والدیک احد ۔ قال امی ۔ نہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تمھارے والدین میں سے کوئی ہے۔ قال قابل الله فی برھا فاذا فعلت فانت حاج و اس نے کہا میری ماں ہے۔ آپ نے فرمایا ماں کے ساتھ معتمر و مجاھد (رواه ابویعلی و الطبرانی) حسن سلوک میں خدا کو پانے کی کوشش کرو جب تم ایسا کروگے تو تم حاجی ہو ، تم عمرہ کرنے والے ہو، تم مجاہد ہو۔

عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال : جاء رجل الی ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ کہ میری حسن صحبت کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ۔ من احق بحسن صحابتی قال امک ۔ قال ثم من آپ نے فرمایا تمھاری ماں ۔ پوچھا پھر کون آپ نے فرمایا قال امک ۔ قال ثم من قال امك قال ثم من قال تمھاری ماں۔ پوچھا پھر کون ۔ فرمایا تمھاری ماں۔ پوچھا ابوك (رواه البخاری و مسلم ) پھر کون آپ نے فرمایا تمھارا باپ۔

عن عبد اللہ بن عمر وبن العاص قال قال رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی رضا مندی صلی اللہ علیہ وسلم رضا اللہ فی رضا الوالد وسخط باپ کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضی باپ کی الله فی سخط الوالد (رواه الترمذی) ناراضی میں ہے۔

الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الامھات (الجامع الصغير للسيوطی) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page