Al-Risala · November 1981 · page 12

خدا کی مدد اٹھ جاتی ہے

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۲

خدا کی مدد اٹھ جاتی ہے

ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں دو شریکوں کے ساتھ تیسرا ہوتا ہوں جب تک کہ ان میں کا ایک ساتھی اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ خیانت نہ کرے (قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اللہ عز وجل : انا ثالث الشر يكين مالم يخن احدھما صاحبه)

مطلب یہ ہے کہ کوئی گروہ اسی وقت تک خدا کی مدد کا مستحق رہتا ہے جب تک اس کے افراد باہم ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں۔ اس کے برعکس جب وہ ایک دوسرے کے بد خواہ بن جائیں، جب ان کے درمیان خیانت کی فضا پیدا ہو جائے تو خدا کی مدد ان سے اٹھ جاتی ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خدا سے تعلق کا معیار بندوں سے تعلق ہے۔ اگر خدا کے ساتھ کسی کا تعلق درست ہے تو لازماً بندوں کے ساتھ بھی اس کا تعلق درست ہو گا۔ جس کا تعلق بندوں کے ساتھ درست نہ ہو، سمجھنا چاہئے کہ خدا کے ساتھ بھی اس کا تعلق درست نہیں۔ خواہ وہ بظاہر کتنا ہی زیادہ خدا کی باتیں کرتا ہو۔

خیانت کا اصل مفہوم اعتماد میں پورا نہ اترنا ہے۔ مثلاً عربی میں کہتے ہیں خانه سیفه (تلوار اچٹ گئی) یعنی تلوار مارنے سے جو امید کی تھی وہ پوری نہیں ہوئی۔ اسی سے مذکورہ حدیث کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے۔

جب بھی دو آدمی ملتے ہیں، خواہ وہ مالک اور ملازم کی حیثیت سے ملیں یا تاجر اور گاہک کی حیثیت سے، وہ مالک مکان اور کرایہ دار کی حیثیت سے ملیں یا دوست اور معاون کی حیثیت سے۔ خواہ جس حیثیت سے بھی ایک شخص کا ساتھ دوسرے شخص سے پڑے، دونوں ایک خاموش عہد میں بندھ جاتے ہیں۔ ہر ایک کا دوسرے کے اوپر کچھ حق قائم ہو جاتا ہے۔ یہ حقوق اور ذمہ داریاں خواہ وہ لکھی ہوئی ہوں یا بغیر لکھی ہوئی ، ہر حال میں ان کی پابندی ضروری ہے۔ ان حقوق اور ذمہ داریوں کو نبھانے کا نام امانت ہے اور ان کو نہ نبھانے کا نام خیانت۔

اجتماعی زندگی میں جب بھی اس قسم کی خیانت کی جائے گی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہاں نفرت ، بے اعتمادی ، ایک دوسرے کی کاٹ اور تخریبی کارروائیاں جنم لیں گی۔ وہاں ہر طرف منفی نفسیات کی فضا پیدا ہوگی اور جہاں منفی نفسیات کی فضا ہو وہاں صرف شیطان کا راج ہوتا ہے۔ خدا اور اس کے فرشتے ایسی فضا میں کبھی بسیرا نہیں لیتے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page