Al-Risala · November 1981 · page 13

مسلمان آپس میں کیسے رہیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۳

مسلمان آپس میں کیسے رہیں

حدثنا عبد الله بن مسلمة عن مالك عن ابن شهاب عن انس بن مالك ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا ، وكونوا عباد الله اخواناً، ولا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال (رواه ابو داود) رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ کرو۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو۔ سب اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے۔

اللہ کے وہ بندے جو اللہ کو حقیقی معنوں میں اپنا معبود بنالیں ، ان کا دل ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کا دل خدا کی بلندیوں میں اٹکا ہوا ہو، وہ دنیا کی پستیوں میں لت پت ہو کر نہیں رہ سکتے۔ ایسے لوگ اپنے بھائیوں کے درمیان اس طرح رہتے لگتے ہیں جیسے ہوا لوگوں کے درمیان سے گزرتی ہے مگر وہ کسی سے نہیں ٹکراتی۔ جیسے پھول کی مہک ہر ایک کو پہنچتی ہے مگر وہ ایک اور دوسرے میں کوئی امتیاز نہیں کرتی۔ جیسے روشنی ہر ایک کے پاس آتی ہے مگر وہ کسی سے خوش اور کسی سے خفا نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ اسی طرح ایک دوسرے کے مکمل ساتھی ہوتے ہیں جیسے باغ کے درخت ایک دوسرے کے ساتھ بغیر کسی قسم کی باہمی رنجش کے ایک مقام پر کھڑے ہوئے ہوں ۔

اسلام کے رزق سے آدمی کو حصہ ملا ہے یا نہیں، اس کی ایک واضح پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے درمیان اس طرح رہنے لگے کہ اس کو نہ کسی سے بغض ہو اور نہ حسد ، کسی قابلِ شکایت بات پیش آنے پر وہ اپنے بھائی سے بگڑ نہ جاتا ہو۔ وہ سارے لوگوں کو اللہ کی عیال سمجھ کر اس طرح رہ رہا ہو جیسے ایک باپ کی اولاد مل جل کر رہتی ہے۔ اس قسم کا ذہن جس شخص کے اندر پیدا ہو جائے ، وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے ایسا ہو جائے گا کہ کسی بھائی سے اگر اس کا بگاڑ ہو جائے اور وقتی تاثر سے مغلوب ہو کر وہ اس سے جدائی اختیار کرلے تو تین دن گزرتے گزرتے اس کا سینہ پھٹنے لگے گا۔ وقتی جذبہ نے اس کو جس بھائی سے دور کیا تھا ، اس سے وہ اپنے رب کی خاطر دوبارہ اس طرح مل جائے گا جیسے کہ اس کے ساتھ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

مسلمانوں کے سوہم آزاد ممالک ہیں جن کی آبادی تقریباً 8 کروڑ ہے۔ جغرافی طور پر کل دنیا کا ۲۱ فی صد وہ حصہ ہے جہاں مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہے۔ مسلمان دنیا کی کل آبادی کا تقریباً ۲۳ فی صد ہیں۔ دنیا کے قدرتی ذرائع کا تقریباً نصف حصہ ان کے قبضہ میں ہے۔ مگر تعلیم ، باہمی اتحاد ، صنعتی ترقی میں، وہ دنیا بھر میں سب سے پیچھے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد اگر مذکورہ حدیث کے مطابق آپس میں بھائی بھائی بن کر تو وہ ایسی طاقت ہوگی جس کو زیر کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page