Al-Risala · November 1981 · page 15

اتحاد کی قیمت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۵

اتحاد کی قیمت

بتمقی اور ابن عساکر نے حضرت عروہ ابن زبیر سے روایت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ ذات السلاسل کے لئے ایک دستہ حضرت عمر بن العاص کی سرداری میں بھیجا۔ یہ جگہ شام کے اطراف میں تھی۔ حضرت عمرو بن العاص جب وہاں پہنچے اور حالات معلوم کئے تو دشمن کی کثرت سے ان کو خوف پیدا ہوا۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیج کر مزید مدد طلب کی۔ آپ نے مہاجرین کو بلایا اور دو سو آدمیوں کا ایک دستہ تیار کیا۔ اس دستہ میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرو وغیرہ بھی شامل تھے۔ آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو کو اس دستہ کا امیر مقرر کیا اور حکم دیا کہ فوراً روانہ ہوں اور حضرت عمرو بن العاص سے جاکر مل جائیں۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کا دستہ جب منزل پر پہنچا اور دونوں دستے ساتھ ہوگئے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ دونوں کا امیر کون ہو۔ حضرت عمرو بن العاص نے کہا: میں تم سب کا امیر ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مدد کے لئے لکھا تھا یہ لوگ اس کے مطابق میری مدد کے لئے بھیجے گئے ہو۔ حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ جو مہاجرین آئے تھے انھوں نے اس کو نہیں مانا۔ انھوں نے حضرت عمرو بن العاص سے کہا: تم اپنے ساتھیوں کے امیر ہو اور ابو عبیدہ ہمارے امیر ہیں ( بل انت امیر اصحابك و ابوعبیدہ امير المهاجرين) حضرت عمرو بن العاص اس تقسیم پر راضی نہیں ہوئے۔ انھوں نے اصرار کیا کہ تمھاری حیثیت امدادی فوج کی ہے اور تم لوگ میرا ساتھ دینے کے لئے بھیجے گئے ہو (انما انتم امددت بكم فانا القائد) حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے جب یہ حال دیکھا تو کہا: تعلم يا عمر و، ان آخر ما عهد الى رسول الله اے عمرو تم پر واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلی اللہ علیہ وسلم ان قال: اذا قدمت علی مجھ کو رخصت کرتے ہوئے جو آخری عہد لیا وہ یہ تھا کہ صاحبك فنطقا دعا ولا تختلفا، وانك واللہ جب تم اپنے ساتھی کے پاس پہنچو تو دونوں اتفاق کے ساتھ ان عصيتني لا اطاعتے میل کر کام کرنا، باہم اختلاف نہ کرنا۔ پس خدا کی قسم اگر تم میری بات نہ مانو گے تب بھی میں تمھاری اطاعت کروں گا راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ابو عبیدہ نے امارت عمرو بن العاص کے حوالے کردی اور ان کی ماتحتی میں کام کرنے پر راضی ہوگئے (فسلم ابو عبيدة الامارة لعمر و بن العاص) البدایہ والنہایہ جلد ۴ اگر دونوں اپنا اپنا اصرار جاری رکھتے تو مسئلہ ختم نہ ہوتا اور جو طاقت دشمن سے مقابلہ کے لئے بھیجی گئی تھی وہ آپس میں لڑ کر فنا ہوجاتی۔ ایسے اختلافی مواقع پر ایک شخص کا جھکنا پوری جماعت کو طاقت در بنا دیتا ہے اور ایک شخص کے نہ جھکنے سے پوری جماعت کمزور ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page