یہ دشمن کا ہتھیار ہے
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۴
یہ دشمن کا ہتھیار ہے
اسرائیلی لیڈر موشے دایان (پیدائش ۱۹۱۵) نے اپنی خود نوشت سوانح عمری شائع کی ہے جس کا نام ہے میری زندگی کی کہانی (The Story of my Life) اسرائیل کے سابق وزیر جنگ نے اپنے حالات کے ذیل میں عربوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :۔ غیر متحد عرب جو ہر چھوٹے بڑے مسئلہ پر ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں، اسرائیل کے لئے کوئی خطرہ نہیں بن سکتے :
The Arabs, Disunited and at odds with one another over every Issue, big and small, present no threat ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی انسانی معاشرہ میں اختلاف نہ ہو۔ تاہم یہ انتہائی طور پر ضروری ہے کہ اختلاف کو ٹکراؤ اور دشمنی تک پہنچنے نہ دیا جائے ۔ اختلاف جب تک فکری اختلاف کے درجہ میں ہو اس سے کوئی حقیقی نقصان نہیں ہوتا۔ مگر جب اختلاف باہمی ٹکراؤ کی صورت اختیار کرلے تو اس سے بڑی کمزوری کسی معاشرہ کے لئے اور کوئی نہیں ۔
اسلام میں اتحاد واتفاق کو بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ وہ مسلم گروہ خدا کی نصرت سے محروم ہو جاتا ہے جس کے افراد آپس میں ایک دوسرے سے جھگڑنے لگیں ۔ حدیث میں ہے کہ لیلۃ القدر کے تعین کا علم صرف اس لئے اٹھا لیا گیا کہ مدینہ میں دو مسلمان باہم لڑپڑے تھے۔ عن عبادة بن الصامت قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم ليخبرنا بليلة القدر فتلاحی رجلان من المسلمين فقال خرجت لأخبركم بليلة القدر فتلاحی فلان وفلان فرفعت (بخاری) عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز نکلے کہ ہم کو شب قدر کے بارے میں بتادیں کہ وہ کس روز ہے۔ اس وقت دو مسلمان آپس میں ایک قرض کے بارے میں لڑپڑے۔ آپ نے فرمایا ، میں اس لئے نکلا تھا کہ تم کو شب قدر کی خبر دے دوں۔ مگر فلاں اور فلاں آپس میں لڑپڑے۔ پس اس کا علم اٹھا لیا گیا۔
حافظ ابن کثیر اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اپنی تفسیر (سورۃ القدر) میں لکھتے ہیں : ان المها راة تقطع الفائدة والعلم النافع كما جاء في الحديث ان العيد ليحدم الرزق بالذنب يصيبه (آپس کا لڑائی جھگڑا لوگوں کو فائدہ سے محروم کر دیتا ہے اور نفع بخش علم ان سے اٹھا لیا جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو وہ ملنے والے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues