مشورہ پر اصرار نہیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۸
آپ نے نوجوان طبقہ کی رائے کا لحاظ کیا اور ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ مدی سے نکل کر احد کی طرف روانہ ہوئے۔ عبداللہ بن ابی نے جب دیکھا کہ اس کی رائے نہیں مانی گئی جو بظاہر حالات معقول بھی تھی تو اس کو بہت دکھ ہوا۔ وہ مدینہ سے ساتھ نکل پڑا تھا مگر دل کے اندر غصہ باقی تھا۔ چنانچہ اسلامی لشکر ابھی مدینہ اور احد کے درمیان تھا کہ عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر مدینہ کی طرف واپس ہو گیا۔ عبداللہ بن ابی نے کہا: الطاعهم وعصانی، ماندری علام نقتل رسول اللہ نے ان کی بات مان لی اور میری بات نہیں مانی۔ اے لوگو! ہم کو نہیں معلوم کہ ہم اپنی جانوں کو (سيرة ابن هشام جلد ۲ صفحہ ۸) یہاں کیوں ہلاک کریں۔
احد کی جنگ میں شکست نے یہ ثابت کیا کہ انھیں لوگوں کی رائے درست تھی جو مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنے کے لئے کہتے تھے اور باہر نکلنے سے روکتے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد غزوہ خندق (۵ھ) میں اسی رائے کو اختیار کیا گیا اور مدینہ میں رہ کر مقابلہ کی تدبیر کی گئی۔ تا ہم تمام بڑے صحابہ اپنے اختلاف رائے کو بھول کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور جنگ میں شدید نقصان اور تکلیف کے باوجود پوری بے جگری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ صرف عبداللہ بن ابی الگ ہوا اور اس کی بنا پر رئیس المنافقین کہلایا۔ عبداللہ بن ابی کی رائے اصولاً درست تھی۔ تجربہ نے بھی اس کے صحیح ہونے کی تصدیق کی۔ مگر صحت رائے کے باوجود اطاعت سے نکلنا اس کے لئے گمراہی اور خدا کی ناراضی کا سبب بن گیا۔
اسلام میں مشورہ کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر آدمی کو حق ہے کہ وہ اپنا مشورہ پیش کرے لیکن ہر مشورہ دینے والا اگر یہ بھی چاہے کہ اس کے مشورہ پر ضرور عمل کیا جائے تو کبھی کوئی کام نہیں ہو سکتا کیونکہ مختلف رایوں میں سے کسی ایک ہی رائے کو عملاً اختیار کیا جا سکتا ہے نہ کہ ہر رائے کو۔ نہ سچے مسلمان وہ ہیں جو مشورہ پیش کرنے کے بعد اپنا مشورہ بھول جائیں اور ذمہ داروں کی طرف سے جو فیصلہ ہو اس کو اس طرح مان لیں جیسے وہی ان کی اپنی رائے تھی۔
"سب سے بڑی قربانی رائے کی قربانی ہے،" کسی شخص کا یہ قول بہت با معنی ہے حقیقت یہ ہے کہ رائے کی قربانی واحد چیز ہے جس کے اوپر کوئی مضبوط اجتماعیت کھڑی ہوتی ہے۔ کوئی عمارت صرف اس وقت بنتی ہے جب کہ کچھ اینٹیں اپنے آپ کو زمین میں دبانے کے لئے تیار ہوں۔ اسی طرح کوئی حقیقی اجتماعیت صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جب کہ کچھ لوگ اس کے لئے تیار ہوں کہ وہ اپنی رایوں کو اپنے سینہ میں چھپالیں گے اور اختلاف رائے کے باوجود اتحاد عمل کا ثبوت دیں گے۔ اس قربانی کے بغیر کسی انسانی اجتماعیت کا وجود میں آنا اتنا ہی نا ممکن ہے جتنا اینٹوں کے بنیاد میں دفن ہوئے بغیر عمارت کا وجود میں آنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues