Al-Risala · November 1981 · page 19

اتحاد کی طاقت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۹

اتحاد کی طاقت

کسی شخص نے کبھی یہ نہیں سنا ہوگا کہ سورج کی گرمی سے کاغذ جل گیا۔ حالاں کہ سورج کی گرمی اتنی زیادہ ہے کہ کاغذ تو کیا پورا کا پورا پہاڑ بلکہ سارا کره ارض اس طرح جل سکتا ہے جیسے کسی بھڑکتے ہوئے تنور میں ایک تنکا۔ مگر یہی سورج جس کی گرمی اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے جنگلوں اور پہاڑوں کو بھک سے اڑا دے وہ موجودہ حالت میں ایک تنکے کو بھی جلانے پر قادر نہیں ہے، ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں لاکھوں کروڑوں میل کے دائرے میں بکھری ہوئی ہیں۔ اس انتشار کی وجہ سے کسی ایک چیز پر بیک وقت اس کی شعاعیں اتنی مقدار میں نہیں پڑتیں کہ وہاں وہ اتنی گرمی پیدا کر سکیں جو کسی چیز کو جلانے کے لئے ضروری ہے۔ حالاں کہ یہی بکھری ہوئی شعاعیں اگر سمیٹ دی جائیں تو وہ خوفناک الاؤ کی شکل میں بھڑک سکتی ہیں۔

آفتابی چولھا سورج کی شعاعوں کے اسی قسم کے ارتکاز کا نام ہے۔ بکھری ہوئی شعاعوں کو ایک خاص دائرے میں سمیٹ دینے کی وجہ سے اس جگہ اتنی گرمی پیدا ہو جاتی ہے کہ کھانا پکنے لگتا ہے۔ آفتابی چولھا تو ابھی بہت کم رایج ہو سکا ہے مگر آتشیں شیشہ (Burning Glass) ایک ایسی چیز ہے جو اکثر اشخاص نے کبھی نہ کبھی دیکھا ہوگا۔ آتشیں شیشہ کیا ہے۔ یہ ایک محدب یا کروی عدسه (Convex Lens) ہے جس سے کاغذ یا دوسری آتش پذیر چیزوں میں آگ لگائی جاسکتی ہے۔ عام حالات میں کاغذ پر سورج کی جو شعاعیں پڑتی ہیں، وہ اتنی زیادہ گرمی نہیں پیدا کر سکتیں کہ اس میں آگ لگ جائے، مگر انہیں شعاعوں کو جب مجتمع کر دیا جاتا ہے تو وہ شعلہ کی مانند بھڑک اٹھتی ہیں۔ کوئی بھی شخص تجربہ کر کے معلوم کر سکتا ہے کہ لنس ان شعاعوں کو طاقت ور بنانے کے لئے کیا کرتا ہے، ذیل کے نقشہ میں شعاعیں آتشیں شیشہ سے گزر کر گزر رہی ہیں۔

بکھری ہوئی شعاعیں ایک نقطہ پر جمع ہو کر طاقت ور ہو جاتی ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page