Al-Risala · November 1981 · page 36

انتشار اور اجتماع کا فرق

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۶

انتشار اور اجتماع کا فرق

ریت خواہ کتنی ہی زیادہ مقدار میں ہو، اس کے لئے کوئی جماؤ نہیں۔ ہوائیں اس کو ہر طرف اڑاتی پھرتی ہیں۔ ہر طوفان اس کو بہالے جانے کے لئے کافی ثابت ہوتا ہے ۔ مگر چٹان کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ وہ پہاڑ کی طرح اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔ چٹان کے لئے ہواؤں اور طوفانوں سے کوئی خطرہ نہیں۔ ہوا کا طوفان اگر ریت کو بے قیمت ثابت کرتا ہے تو چٹان کے لئے اس کا آنا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اس کی مضبوطی اور استحکام کو لوگوں کی نظروں میں ثابت شدہ بنادے۔

دونوں کے درمیان یہ فرق کیوں ہے جب کہ دونوں حققت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ ریت بکھری ہوئی چٹان ہے اور چٹان جمی ہوئی ریت۔ جب دونوں اصلاً ایک ہیں تو کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ایک پر ہوائیں قابو پالیتی ہیں۔ مگر دوسرے پر ان کا کوئی قابو نہیں چلتا۔ اس کی وجہ انتشار اور اجتماع کا فرق ہے۔ ریت نے منتشر ہو کر اپنے کو ہوا کے مقابلہ میں بے زور کر لیا ہے۔ اور چٹان " مجتمع " ہونے کی وجہ سے طاقت ور اور مستحکم ہے۔

یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ کوئی گروہ اگر انتشار کی حالت میں ہو، اس کے افراد ایک دوسرے سے الگ ہو کر بکھرے ہوئے ہوں تو کثرت تعداد کے باوجود ان کی کوئی اجتماعی طاقت نہ ہوگی۔ دوسروں کے مقابلہ میں ہر جگہ وہ کمزور ثابت ہوں گے، خارجی حوادث کا طوفان ان کو ریت کی مانند اڑا لے جائے گا۔ اس کے برعکس اگر اس گروہ کا حال یہ ہو کہ اس کے افراد آپس میں جڑے ہوئے ہوں، انھوں نے اپنی انفرادیت کو اجتماعیت کی صورت میں باندھ رکھا ہو تو ہر ٹکراؤ کے موقع پر وہ ناقابل تسخیر ثابت ہوں گے، باہر کے حملوں کے مقابلہ میں وہ پہاڑ کی طرح اپنی جگہ جمے رہیں گے، کوئی بھی ان کو ہلانے میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں ہر وقت آدمی کا امتحان لیا جارہا ہے۔ اس دنیا میں زندگی کا حقی صرف اس کے لئے ہے جو امتحان کی جانچ میں پورا اترے۔ جو لوگ امتحان میں ناکام ثابت ہوں ان کو خدا کی اس دنیا میں جینے کا کوئی حق نہیں۔ حقائق کی یہ دنیا ایسے لوگوں کو بے قیمت قرار دے کر کوڑے خانہ میں پھینک دیتی ہے ۔ اس دنیا میں آدمی کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ حقیقت کی سطح پر جینے کے لئے تیار ہے یا نہیں۔ جو لوگ حقیقت کی سطح پر جینے لگیں ان کے یہاں خود بخود ان چیزوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے جو باہمی انتشار کا سبب بنتی ہیں اور آپس کا بگاڑ اور اختلاف پیدا کر کے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔ حقیقت کی سطح پر جینے والے افراد کے باہمی تعلق ہی کا نام اتحاد ہے اور حقیقت کی سطح سے دور ہو جانے والوں کے باہمی تعلق کا نام انتشار۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page