Al-Risala · February 1981 · page 2

ظالم کے لئے کامتوبی نہیں

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۲

ظالم کے لئے کامتوبی نہیں

نظام الملک طوسی سلطنت سلجوقیہ کا وزیر اعظم تھا۔ اس نے دو سلجوقی حکمران، الپ ارسلان اور ملک شاہ کے زمانہ میں نہایت کامیابی کے ساتھ حکومت کا نظام سنبھالا۔ وہ حکومت کے معاملات میں اتنا زیادہ دخیل تھا کہ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ کا کام تخت پر بیٹھنا رہ گیا تھا یا شکار کھیلنا۔ سلجوقی حکومت کے حریفوں نے نظام الملک کو قتل کرا دیا۔ ایک شخص نے صوفی کے بھیس میں ۱۰۹۲ء میں اس پر حملہ کر کے اسے ختم کر دیا۔ نظام الملک کے مرتے ہی سلجوقی سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔

نظام الملک طوسی کی لیاقت کو عام طور پر مورخین نے تسلیم کیا ہے۔ پی۔ کے ہٹی نے اپنی کتاب "ہسٹری آف دی عربس" میں نظام الملک کی بابت لکھا ہے کہ اسلام کی سیاسی تاریخ میں وہ ایک درخشندہ نام کی حیثیت رکھتا ہے:

One of the ornaments of the political history of Islam (P. 477)

نظام الملک طوسی کا زمانہ گیارھویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ اس کے مختلف کارناموں میں سے مشہور مدرسہ نظامیہ کا قیام (۷۴-۶۱۰۴۵) بھی ہے۔ وہ اسی مدرسہ سے اپنے لئے انتظامیہ اور عدلیہ کے کے لئے تربیت یافتہ افراد حاصل کرتا تھا۔ نظام الملک نے طریق حکومت پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا فارسی نام سیاست نامہ ہے۔ اس کتاب میں اس نے لکھا ہے: الملک يبقى مع الكفر ولا يبقى مع الظلم (حکومت کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے مگر وہ ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتی)

یہ اصول بادشاہ کے لئے بھی صحیح ہے اور ایک عام آدمی کے لئے بھی۔ ہر آدمی کا اپنا ایک دائرہ عمل ہوتا ہے۔ بادشاہ کا دائرہ بڑا ہوتا ہے اور عام آدمی کا چھوٹا۔ جو آدمی کامیابی کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دائرہ میں ظلم کرنے سے بچے ۔ اگر اس نے دوسروں پر ظلم کرنے سے اپنے کو نہ بچایا یا یقینی طور پر وہ قدرت کی پکڑ میں آجائے گا۔ خدا کی سنت ہے کہ آدمی کے دوسرے جرموں کی سزا تو اس کو آخرت میں دی جاتی ہے مگر جو شخص ظلم کرے اور ناحق دوسروں کو ستائے اس کی سزا اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے ظلم کرنے والا خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا، خواہ جلد پکڑا جائے یا دیر میں۔ ظلم ایک ایسی برائی ہے جس کا خمیازہ اولاد تک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ظلم کرنے والا خواہ کوئی حکمراں ہو یا غیر حکمران، اگر وہ اپنے ظلم پر قائم رہتا ہے تو لازماً ایسا ہوگا کہ اس کے ظلم کا انجام اس کے خاندان تک پہنچے گا۔ آدمی اپنے بچوں کی خاطر ظلم کرتا ہے حالاں کہ بچوں کے حق میں اس سے زیادہ بری وراثت اور کوئی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page