Al-Risala · November 1981 · page 28

جانوروں سے سیکھیے

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۸

جانوروں سے سیکھیے

جنگلی ہرنوں کو اگر آپ جنگل میں دیکھیں تو وہ ہمیشہ غول کی صورت میں دکھائی دیں گے ۔ ہرن، دوسرے اکثر جانوروں کی طرح کبھی اکیلا نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ اپنی جماعت کے ساتھ رہتا ہے۔ ہرن کی زندگی کا مقصد اگر چہ غذا اور پانی کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ مگر جنگل کی دنیا میں ہر وقت چھوٹے جانوروں کو بڑے جانوروں کا ڈر لگا رہتا ہے ۔ ہر جانور کو یہ خطرہ رہتا ہے کہ اس سے بڑا جانور اس کو اپنا شکار نہ بنا لے۔ اس لئے جنگل کے جانور الگ الگ نہیں رہتے۔ بلکہ غول کی صورت میں زندگی گزارتے ہیں ۔ وہ ساتھ چلتے ہیں۔ ساتھ بیٹھتے ہیں۔ ساتھ مل کر اپنے سب کام کرتے ہیں۔ ایسا وہ اس لئے کرتے ہیں کہ کوئی خطرہ پیش آئے تو سب مل کر اس کا مقابلہ کر سکیں۔ وہ نازک موقع پر دشمن کے مقابلہ میں اکیلے نہ رہیں ۔ وحشی جانور اپنی ساری وحشت کے باوجود اپنے تحفظ کی خاطر اکٹھا ہو جاتے ہیں ۔

جنگل کا ایک جانور جانتا ہے کہ تنہا رہنا گویا اپنے آپ کو اس کے لئے چھوڑ دینا ہے کہ دشمن جب بھی چاہے اس کو اپنا شکار بنالے۔ اس کے برعکس نظم اور اتحاد دشمن کے خلاف مضبوط دیوار ہیں۔ قدرت نے ہر جانور کو یہ سبق فطری طور پر سکھا دیا ہے۔ وہ اس سبق کو پوری طرح اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ وہ جنگل کی غیر محفوظ دنیا میں پوری حقیقت پسندی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے ۔

انسان بھی اس حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے جس بات کو جانور صرف جبلی طور پر جانتے ہیں وہ انسان کو عقلی اور شعوری طور پر معلوم ہے۔ مگر بہت کم مثالیں ملیں گی جب کہ انسان نے اس واقفیت کو عملی طور پر پوری طرح استعمال کیا ہو۔ وہ اکثر اس معاملہ میں ناکام ثابت ہوتا ہے۔ انسان، انسان ہونے کے باوجود جنگل کے وحشی جانوروں سے پیچھے ہے۔

انسان کیوں متحد نہیں رہ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اتحاد ہر شخص سے ایک قربانی مانگتا ہے۔ یہ قربانی کہ فرد اپنی انفرادیت کو اجتماع کے حوالے کر دے، آدمی اپنی ذات کو اہمیت دینے کے بجائے پورے مجموعہ کو اہمیت دینے لگے۔ یہ انا کی قربانی ہے اور انا کی قربانی کسی آدمی کے لئے سب سے مشکل قربانی ہے۔ آدمی جان کو قربان کر سکتا ہے مگر وہ اپنی انا کو دوسرے کے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ انسان کی یہی کمزوری ہے جو ہمیشہ اتحاد واجتماعیت کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے۔ جانور اس معنی میں اپنی کوئی انا نہیں رکھتے۔ کوئی چیز ان کے لئے عزت کا سوال نہیں بنتی ، یہی وجہ ہے کہ وہ نہایت آسانی کے ساتھ متحد ہوجاتے ہیں۔ اتحاد کا راز بے انا ہونا ہے۔ جہاں اتحاد نہ ہو سمجھ لیجئے کہ وہاں بے انا انسانوں کا وجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page