Al-Risala · November 1981 · page 30

یہ اختلاف کیوں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰

یہ اختلاف کیوں

مباحثہ کی میز کے چاروں طرف کمرہ میں درجن آدمی بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایسے موقع پر کوئی موضوع چھیڑا جائے تو اس کے بارے میں لوگوں کی رائیں مختلف ہو جائیں گی۔ ہر آدمی کوئی نیا پہلو نکالے گا اور ایک الگ رائیں دے گا۔ ایک دھی سی بات بھی تشریح و تعبیر کے فرق سے ایک درجن شکلیں اختیار کرلے گی۔ لوگوں کو ایک متفقہ رائے پر لانے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوگی۔ اب اسی کمرہ میں حکومتِ وقت کا وزیر مالیات داخل ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں مختلف رنگ کی بہت سی گولیاں ہیں۔ ان میں سے ایک گولی سفید ہے۔ وہ اعلان کرتا ہے کہ اس سفید گولی پر ایک ملین ڈالر کا انعام ہے۔ میں اس کو اچھال کر گراؤں گا ۔ جو شخص سفید گولی پالے گا اس کو ایک ملین ڈالر نقد انعام دیا جائے گا۔ اس کے بعد جب وہ گولیوں کو میز پر بکھیرے گا تو تمام لوگوں کی توجہ "سفید گولی" پر لگ جائے گی۔ دیکھنے میں اگر چہ وہاں بہت سی گولیاں ہوں گی مگر حاضرین میں سے کوئی نہ ہوگا جو سفید گولی کے سوا کسی اور گولی کی طرف متوجہ ہو۔ اب فرض کیجیے کہ اسی کمرہ میں دوسرا شخص داخل ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک بکس ہے۔ وہ اپنا بکس میز پر رکھ کر اس کو کھولتا ہے اور اس کے اندر سے ایک کالا سانپ نکل کر میز پر چلنے لگتا ہے۔ اس کے بعد کمرے کے حاضرین کا جو حال ہوگا اس کا تصور ہر شخص کر سکتا ہے۔ دوبارہ ہر آدمی کی توجہ " سانپ " کے اوپر جم جائے گی۔ ہر آدمی صرف ایک چیز سوچے گا : بھاگ کر اپنے کو سانپ کی زد سے بچائے ____________ شدتِ طلب یا شدتِ خوف رایوں کے فرق کو ختم کر دیتا ہے۔ ایسے وقت میں ہر آدمی اسی ایک چیز کا طالب بن جاتا ہے جو سب سے زیادہ قابلِ طلب ہے اور ہر آدمی اسی ایک چیز سے ڈرنے لگتا ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے کے قابل ہے۔ ہر آدمی کی توجہ اسی ایک چیز پر لگ جاتی ہے جس پر دوسرے آدمی کی توجہ لگی ہوئی ہے۔

اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ بن کے معاملہ میں آج اتنا زیادہ اختلاف کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ دین آج لوگوں کے لئے بس ایک لکھنے اور بولنے کی چیز ہے، وہ ان کے لئے خوف اور محبت کی بنیاد نہیں بنا ہے۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں خوف ومحبت کی بنیاد دین جائے تو اچانک سارا اختلاف ختم ہو جائے گا۔ لوگ جنت اور جہنم کا نام لیتے ہیں مگر جنت لوگوں کی ضرورت نہیں بنی اور جہنم لوگوں کا مسئلہ نہیں بنی۔ یہی اختلاف کا سب سے بڑا سبب ہے۔ گویا میز کی سطح پر ایک دینی مباحثہ جاری ہے اور ہر آدمی اس کے گرد بیٹھا ہوا اپنی قابلیت کے جوہر دکھا رہا ہے۔ اگر فی الواقع ایسا ہو کہ جنت لوگوں کی طلب شدید بن جائے اور جہنم سے لوگوں پر خوفِ شدید طاری ہو جائے تو دفعۃ سب کی رائیں سمٹ کر ایک نقطہ پر جمع ہو جائیں گی۔ سب ایک ہی " انعام" کے طالب بن جائیں گے اور سب ایک ہی "خطرہ" ، کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھنے لگیں گے۔ یہ شدتِ طلب اور یہ شدتِ خوف رایوں کے تعدد کو ختم کر دے گا۔ لوگ سارے اختلافات کو بھول کر اپنی توجہ ایک ہی چیز پر مرکوز کر دیں گے۔ سارے مسلمان مل کر اتحاد کی چٹان بن جائیں گے۔ وہ دین جو " ہے دین جو، دھچوں " میں تقسیم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے وہ صرف ایک دین کی صورت میں دکھائی دینے لگے گا۔ تمام نیکیوں کی بنیاد یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ (Sincere) ہو۔ اور شدتِ طلب اور شدتِ خوف کے سوا کوئی چیز نہیں جو آدمی کو حقیقی معنوں میں سنجیدہ بنا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page