Al-Risala · November 1981 · page 43

سچائی عوامی شور میں دب جاتی ہے

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳

سچائی عوامی شور میں دب جاتی ہے

ٹورانٹو (کناڈا) میں ایک مکان میں آگ لگ گئی۔ ایک شخص تیسری منزل پر تھا۔ آگ بجھانے والے (فائر مین) آئے۔ انھوں نے بچنے والے آدمی کو آواز دی کہ تم کھڑکی کے چھے پر آ جاؤ۔ ہم تم کو خصوصی سیڑھی سے اتارنے کا انتظام کر وہے ہیں۔ مگر فائر مین صرف چند تھے۔ دوسری طرف عمارت کے نیچے کافی مجمع اکٹھا ہو گیا۔ مجمع چلانے لگا "کو دو کو دو"۔ مجمع کے شور میں فائر مین کی آواز آدمی تک نہ پہنچ سکی۔ اسی نے اپنے کمرہ سے چھلانگ لگا دی۔ وہ نیچے گرا تو شدید طور پر زخمی ہو چکا تھا۔ اس کو نازک حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔ فائر مین نے کہا: آدمی اگر ۳۰ سیکنڈ اور ٹھہر ہوتا تو ہماری سیڑھی اس تک پہنچ جاتی اور وہ حفاظت نیچے اتر آتا۔ آدمی کی عمر ایکیاون سال تھی اور اس کا نام فرینک کرٹس (Frank Curtis) تھا (ٹائمس آف انڈیا ۵ جنوری ۱۹۸۰)

لوگ بولنا جانتے ہیں۔ مگر زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ لوگ چپ رہنا جانیں۔ وہی گروہ ترقی کرتا ہے جس کے افراد یہ جانتے ہوں نہ دن کو کہاں چپ رہنا چاہئے۔ جب لوگ چپ رہتے ہیں تو دراصل وہ اہل تر کو بولنے کا موقع دیتے ہیں۔ اور جب ہر شخص بولنے لگے تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ جو شخص حقیقی معنوں میں بولنے کا اہل ہے وہ بولنے کو بے فائدہ سمجھ کر چپ ہو جائے گا یا اگر بولے گا تو عوامی شور و غل میں اس کی آواز دب کر رہ جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ حال تھا کہ جب آپ صحابہ کو اکٹھا کرتے اور ان کے سامنے مشورہ کے لئے کوئی بات رکھتے تو لوگ غور سے بات کو سن کر چپ ہو جاتا۔ کیوں کہ ہر آدمی اپنا بے لاگ محاسبہ کرنے کی وجہ سے اس بات کو جانتا تھا کہ اس کے درمیان بولنے کا سب سے زیادہ اہل ، رسول خدا کے بعد، جو شخص ہے وہ ابو بکر رضی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مکمل ہو جانے کے بعد سب سے پہلے ابو بکر رضی اللہ عنہ بولتے ۔ پھر دوسرے لوگ مختصراً اپنی رائے دیتے اور اس کے بعد ہر آدمی طے شدہ عمل کے لئے تیار ہو جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب خلافت راشدہ کا دور شروع ہوا تو اب یہ ہوا کہ خلیفہ اول ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو مشورہ کے لئے جمع کرتے ۔ آپ اپنی بات کہہ کر بیٹھ جاتے اور کہتے کہ لوگ اپنی رائے بتاؤ۔ مگر دوبارہ سب لوگ چپ رہتے۔ کیوں کہ یہ رہ لوگ تھے جو اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ ان کے ڈرنے ان کو بتا دیا تھا کہ ان کے درمیان بولنے کے سب سے زیادہ اہل عمر بن خطاب ہیں۔ چنانچہ خاموشی کے ایک وقفہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوتے اور اپنی بات کہتے۔ آپ کی بات مکمل ہو جاتی تو دوسرے لوگ مختصراً اپنی رائیں ظاہر کرتے اور پھر اتفاق رائے سے فیصلہ ہو جاتا۔

بعد کے زمانہ میں یہ صورت حال دھیرے دھیرے بدل گئی۔ اب ہر شخص اپنے آپ کو سب سے زیادہ بولنے اور رائے دینے کا اہل سمجھنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملت اسلامی میں ایسا خلفشار برپا ہوا جو کبھی ختم نہ ہو سکا۔ موجودہ زمانہ میں بھی یہ صورت حال مزید شدت کے ساتھ قائم ہے۔ آج ہر آدمی لکھنے اور بولنے کے لئے بے تاب نظر آتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسائل پر رائے دینے کا سب سے زیادہ اہل وہی ہے۔ لوگوں کو اپنا وجود حقیقت سے زیادہ دکھائی دیتا ہے اور دوسرے کا وجود حقیقت سے کم نظر آتا ہے۔ کوئی اپنی نااہلی کو نہیں جانتا۔ البتہ اپنی اہلیت کو جاننے کا ماہر ہر شخص بنا ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ملت کے اختلاف اور کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page