اتحاد کی آسان تدبیر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۴
اتحاد کی آسان تدبیر
گاؤں کا ایک خاندان ہے ۔ باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔ چار بھائی اور ان کے بیوی بچوں کو ملا کر ڈیڑھ درجن افراد خاندان ہیں ۔ مگر سب مل کر رہتے ہیں۔ آپس میں جھگڑا نہیں ہوتا ۔ ان کا اتحاد واتفاق ساری بستی میں ضرب المثل بن گیا ہے۔ میری ملاقات ان کے بڑے بھائی سے ہوئی تو میں نے پوچھا : " آپ کے یہاں جھگڑا نہیں ہوتا ، یہ بہت اچھی بات ہے ۔ مگر اس کا راز کیا ہے " انھوں نے جواب دیا " ایسا نہیں ہے کہ جھگڑا نہیں ہوتا ۔ اتنے سب آدمی جس گھر میں ہوں وہاں کچھ نہ کچھ کھٹ پٹ ہونا ضروری ہے ۔ اصل یہ ہے کہ ہم لوگ اس کو بڑھنے نہیں دیتے " اس کے بعد وہ اٹھے اور ایک طرف دس قدم چل کر گئے اور کہا " جب جھگڑا ہوتا ہے تو ہم اس طرح اس سے ہٹ کر دور چلے جاتے ہیں " یہ ایک معمولی پڑھا لکھا خاندان ہے۔ مگر انھوں نے زندگی کا ایک راز پالیا ہے ۔ وہ یہ کہ جھگڑا ایک وقتی چیز ہے ۔ اگر اس کو کسی طرح ٹال دیا جائے تو وہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اس اصول پر وہ لوگ شدت سے کاربند ہیں اور اس کے زبردست فوائد ان کو حاصل ہوئے ہیں۔ باپ کے انتقال کے وقت ان کی معاشی حالت بہت خراب تھی ۔ مگر اپنے اتحاد واتفاق کے ذریعہ انھوں نے گاؤں میں مثالی ترقی حاصل کرلی ۔ اب انھوں نے اپنے معاملات کے چار شعبے کر دئے ہیں اور چاروں بھائی ایک ایک شعبہ پر لگے ہوئے ہیں ۔ ایک بھائی کھیتی کا ذمہ دار... دوسرا بھائی دکان کا ذمہ دار ہے ۔ تیسرا بھائی گھر کے امور کا ذمہ دار ہے ، چوتھا بھائی باہر کے امور کی دیکھ بھال کرتا۔ ہے۔ کاموں کی تقسیم نے ان کے لئے باہمی اختلاف کے مواقع اور بھی کم کر دئے ہیں ۔
اسی طرح میری ملاقات ایک بار دو ایسے آدمیوں سے ہوئی جو دو الگ الگ پارٹیوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے باوجود دونوں بہت قریبی دوست تھے ۔ روزانہ باہم ملتے اور ایک دوسرے کے کام میں شریک رہتے ۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سیاسی اختلاف کے باوجود اس قدر اتحاد کیسے ہے ۔ ان میں سے ایک شخص نے مسکرا کر جواب دیا : " ہم نے اپنے اختلاف کو بازو میں رکھ دیا ہے " ان کی زبان سے یہ جملہ سن کر میں حیران رہ گیا ۔ ایک بہت بڑے مسئلہ کا کتنا سادہ حل انھوں نے دریافت کر لیا تھا ہمارے بستر میں ایک کانٹا ہو تو ہم اس کو بستر سے نکال کر " بازو " میں ڈال دیتے ہیں یہی طریقہ اختلاف کے بارے میں کیوں نہ اختیار کیا جائے ۔ دو آدمیوں میں کوئی اختلاف ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے درمیان سارے معاملات میں اختلاف ہو گیا۔ اختلاف کے باوجود بہت سے دوسرے امور ہوتے ہیں جن میں دونوں کے درمیان پورا اتفاق ہوتا ہے ۔ اس لئے بہترین عقلمندی یہ ہے کہ دو آدمیوں میں جب اختلاف پیدا ہو تو اختلاف کے پہلو کو " بازو " میں رکھ کر اتحاد کے پہلوؤں پر اپنا جوڑ باقی رکھا جائے ۔ اسی طرح ایک بار میں ایسے دو آدمیوں سے ملا جو بالکل متضاد سیاسی خیالات رکھتے تھے۔ ایک کا تعلق ایک فرقہ وارانہ جماعت سے تھا اور دوسرے کا تعلق ایک قومی جماعت سے ۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے دوست تھے اور بے تکلفی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ نظریاتی اختلاف کے باوجود آپ لوگ اپنے ان تعلقات کو کس طرح نبھاتے ہیں ۔ یہ سن کر ان میں سے ایک شخص نے جواب دیا : ہم نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے ۔ -------- یہ واقعہ بتاتا ہے کہ زندہ انسان اختلاف کے اندر بھی اتحاد کے اسباب ڈھونڈ لیتے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues