اختلاف کے باوجود
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۵
اختلاف کے باوجود
"مجھے اپنی زندگی کے دو واقعات یاد آتے ہیں، مولانا عبدالرحیم بڈیڈی (ہریانہ) نے کہا۔ ۵۳-۱۹۵۲ میں جب کہ میں مدرسہ سبحانیہ دہلی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ میرے ساتھ یوپی کے ایک طالب علم عبدالقيوم صاحب رہتے تھے۔ وہ اپنے روپے میرے پاس امانتاً رکھتے تھے جن کو میں ان کی اجازت سے خود اپنی ضرورت کے لئے بھی استعمال کرتا تھا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ کسی بات پر ان سے میری لڑائی ہوگئی۔ عبدالقيوم صاحب کے دوستوں نے ان کو اکسایا کہ "عبدالرحیم نے تمھارے ساتھ زیادتی کی ہے تم ان سے اپنا سب روپیہ مانگ لو" لوگوں نے بہت کہا مگر وہ اس کے لئے راضی نہ ہوئے۔ انھوں نے کہا : ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ لڑائی الگ چیز ہے اور روپیہ الگ چیز۔ میں لڑائی کی وجہ سے ان سے اپنے روپیہ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
دوسرا واقعہ میوات کا ہے۔ ۱۹۵۹ء میں میں گلپارہ (ضلع بھرت پور) کے مدرسہ میں تدریسی خدمت انجام دے رہا تھا۔ وہاں کے ایک میو حاجی دراب خاں سے میری اکثر لڑائی رہتی تھی۔ اسی دوران میں ایک بار مدرسہ کے لئے چندہ کی مہم چلی۔ کچھ لوگ گھوم کر گاؤں کے ایک ایک گھر تک پہنچے اور مدرسہ کی امداد کے لئے کہا۔ کسی نے ۲۰ سیر اناج لکھوایا، کسی نے ۳۰ سیر۔ سب سے زیادہ جس نے لکھوایا وہ ایک من غلہ تھا۔ میں بھی وفد میں شامل تھا۔ لوگ حاجی دراب خاں کے گھر کی طرف چلے تو مجھے ایسا لگا کہ یہ لوگ بے کار ان کے یہاں جارہے ہیں۔ وہ ایک ایسے مدرسہ کے ساتھ کب تعاون کریں گے جس میں ان کا ایک مبغوض شخص کام کرتا ہو۔ ہم لوگ ان کے گھر پہنچے اور مدرسہ کے لئے کہا۔ انھوں نے پوچھا کہ لوگوں نے کتنا کتنا لکھوایا ہے۔ ہر ایک کی مقدار بتائی گئی جس میں سب سے زیادہ اس کا غلہ تھا جس نے ایک من لکھوایا تھا۔ انھوں نے کہا "میری طرف سے سوا من لکھ لو" اس کے بعد بولے : اگر چہ میری اس مولوی سے لڑائی ہے، مگر مدرسہ سے میری کوئی لڑائی نہیں۔ مولوی سے لڑائی کے باوجود میں مدرسہ کی مدد کروں گا۔ زندہ آدمی اختلاف کو اسی دائرہ میں رکھتا ہے جس دائرہ میں اختلاف پیدا ہوا ہے، اس سے باہر اس کو نہیں لے جاتا۔ کسی سے ذاتی اختلاف ہو تو اس کی بنا پر اس کے ادارہ کی جڑ کھودنے کے درپے نہیں ہوتا۔ کسی سے ایک مسئلہ میں اختلاف ہو تو اس کو سارے مسائل میں اپنا مخالف نہیں سمجھ لیتا۔ کسی سے نظریاتی اختلاف ہو تو اس کی وجہ سے ایسا نہیں کرتا کہ اس کو بے عزت کرے یا اس کی معاشیات کو برباد کرنے لگے۔ زندہ آدمی حد کے اندر رہنے والا ہوتا ہے نہ کہ حد سے گزر جانے والا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues