آدمی نہ کہ گروہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۹
آدمی نہ کہ گروہ
حافظ حامد حسن علوی (۱۹۵۹ء-۱۸۷۲ء) اعظم گڑھ کے ایک صاحب طریقت بزرگ تھے۔ ان کو جماعت اسلامی سے سخت اختلاف تھا۔ حافظ صاحب قبلہ کی بستی میں ایک دینی مدرسہ تھا۔ ایک صاحب اس مقامی مدرسہ میں استاد تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے رکن تھے۔ تاہم اسی کے ساتھ وہ تصوف سے دلچسپی رکھتے تھے اور کبھی کبھی حافظ صاحب کی مجلس میں شریک ہوتے تھے۔
مذکورہ استاد نے ایک روز حافظ صاحب قبلہ سے کہا کہ میں تصوف کے طریقے کا عملی تجربہ کرنا چاہتا ہوں، آپ مجھے اپنی بیعت میں لے لیں اور مجھے اس سلسلہ میں استفادہ کا موقع دیں۔ حافظ صاحب مرحوم اس وقت کافی ضعیف ہو چکے تھے اور بیعت وارشاد کا کام اپنے خلفاء کے حوالے کر دیا تھا۔ جب ان کے سامنے مذکورہ استاد کی درخواست آئی تو انھوں نے اپنے ایک خلیفہ (مولانا سعید احمد صاحب) کو بلایا اور ہدایت کی کہ ان کو اپنے حلقہ میں لے لو اور ان کو تصوف کی تعلیم دو۔
مولانا سعید احمد صاحب کو مذکورہ استاد کے جماعتی تعلق کا حال معلوم تھا۔ چنانچہ ان کو تکلف ہوا ۔ انھوں نے کہا ”حضرت، یہ تو جماعت اسلامی کے رکن ہیں“، حافظ صاحب قبلہ نہایت ذہین اور بیدار مغز آدمی تھے ۔ انھوں نے اپنے مخصوص لہجہ میں کہا :
اجی، آدمی دیکھا جاتا ہے کہ جماعت
انھوں نے مولانا سعید احمد صاحب سے کہا کہ تم ان کو اپنے حلقہ میں شامل کر لو اور ان کو تصوف کی تعلیم دو۔ دیکھنے کی چیز شخص ہوتا ہے، جماعت یا گروہ نہیں۔ چنانچہ جماعتی اختلاف کے باوجود مذکورہ استاد کو حلقہ تصوف میں شامل کر لیا گیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر آدمی کا ایک الگ سانچہ ہوتا ہے۔ یہ سانچہ ہر حال میں باقی رہتا ہے، خواہ وہ کسی بھی جماعت یا کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔ دانش مندی یہ ہے کہ کسی فرد سے معاملہ کرتے ہوئے اس کی انفرادی شخصیت کو دیکھا جائے نہ کہ جماعت اور حلقہ کو۔ جو لوگ حلقہ اور جماعت کی اصطلاحوں میں سوچیں وہ اکثر نہایت قیمتی افراد کو کھو دیتے ہیں۔ وہ فرد کو جماعت یا گروہ کے لباس میں دیکھتے ہیں۔ حالاں کہ فرد ہمیشہ فرد رہتا ہے۔ وہ جماعت میں شریک ہونے کی وجہ سے جماعت نہیں بن جاتا۔
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں ہجرت کے سفر میں عبداللہ بن اریقط کو راز دار بنایا گیا جو کہ مشرک تھا۔ مگر مشرک ہونے کے باوجود اس نے راز کی پوری حفاظت کی۔ دوسری طرف فتح مکہ کی تیاری کے موقع پر ایک مسلمان حاطب بن ابی بلتعہ نے خط کے ذریعہ مدینہ کے فوجی راز کو مکہ والوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اگرچہ خدائی اطلاع کی بنا پر ان کا قاعدہ راستہ میں پکڑ لیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues