میں چھوٹا کیوں بنوں
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۸
میں چھوٹا کیوں بنوں
ایک گھر میں میاں بیوی کا جھگڑا تھا۔ خاندان کے ایک بزرگ ان کے یہاں گئے تاکہ دونوں میں ملپ کرا دیں۔ حالات کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے پایا کہ جھگڑے کی اصل جڑ یہ ہے کہ ”گھر کا بڑا کون ہو۔ “ شوہر چاہتا ہے کہ میری بات مانی جائے اور بیوی چاہتی ہے کہ میری بات چلے۔ بس یہی مزاج سارے جھگڑے کا سبب ہے۔
انھوں نے بیوی سے باتیں کیں تو اس نے جھلا کر کہا ”وہ ہر بات میں اپنی چلاتے ہیں، میری کچھ سنتے ہی نہیں۔ “ بزرگ نے کہا کہ جب اتنی سی بات ہے تو تم اپنے شوہر کو بڑا مان لو سارا جھگڑا خود بخود ختم ہو جائے گا“ بیوی نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے، پھر تو میں مستقل طور پر احساس کمتری کا شکار ہو جاؤں گی“ بزرگ نے کہا کہ تم دونوں کے روزانہ کے جھگڑوں کی وجہ سے بچے تباہ ہو رہے ہیں۔ گھر کا سارا معاملہ بگڑا ہوا ہے۔ پھر اگر ان کو بڑا مان لینے سے تمھارے خاندان کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو اس میں کیا برائی ہے۔ “ بیوی نے کہا: ”یہی بات آپ ان سے کہئے ۔ وہی کیوں نہ مجھ کو بڑا مان لیں!
بزرگ نے جب یہ جواب سنا تو وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا: مشترکہ زندگی کا راز چھوٹا بننے میں ہے۔ دس آدمیوں کے درمیان جب نو آدمی اپنے کو چھوٹا بنا لیں تبھی یہ ممکن ہوتا ہے کہ دسواں آدمی بڑا بن کر ان کے اندر نظم اور اتحاد قائم کرے۔ جہاں ہر آدمی بڑا بننا چاہتا ہو وہاں نظم اور اتحاد پیدا ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ اور جہاں نظم اور اتحاد نہ ہو وہاں جو چیز جنم لیتی ہے وہ صرف بربادی ہے۔ نو آدمیوں کی قربانی سے دس کے دس آدمیوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور جہاں کوئی قربانی دینے کے لئے تیار نہ ہو وہاں سارے کے سارے دس آدمی برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
چھوٹا بننے پر راضی نہ ہونے کا ذہن ہی تمام برائیوں کا اصل سبب ہے۔ آدمی چھوٹا بننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ حالاں کہ موت ہر روز یہی سبق دے رہی ہے۔ موت بہت تیزی سے ہر آدمی کو یہ بتانے کے لئے چلی آ رہی ہے کہ تم چھوٹے کے سوا اور کچھ نہیں۔
اپنے اندر کے ایک شخص کو بڑا مان کر اُس کے مقابلہ میں چھوٹا بننے پر راضی ہو جانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا گروہ منظم اور طاقت ور ہو جاتا ہے۔ آدمی انفرادی بڑائی کھو کر زیادہ بڑے پیمانہ پر اجتماعی بڑائی حاصل کر لیتا ہے۔ مگر کوئی شخص اس راز کو نہیں جانتا۔ وہ جھوٹی بڑائی کے احساس میں گم رہتا ہے یہاں تک کہ موت اس کو ہمیشہ کے لئے چھوٹا بنا کر قبر کی تاریکی میں دھکیل دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues