اتحاد کیوں نہیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۵
اتحاد کیوں نہیں
۲۹ اگست ۱۹۷۹ کا واقعہ ہے۔ دہلی کے آزاد پارک (جامع مسجد) میں ایک ہی دن دو جلسے ہوئے۔ دونوں جلسوں کا مقصد ایک تھا مگر دونوں دو الگ الگ شامیانوں کے نیچے ہوئے۔ ایک جلسہ شام کو ۵ بجے ہوا، دوسروں جلسہ اسی دن اسی مقام پر ۹ بجے شب میں۔ ایک جلسہ کو مسلمانوں کی ’’ وطن دوست‘‘ جماعتوں نے بلایا تھا اور دوسرے جلسہ کو ’’اسلام دوست‘‘ جماعتوں نے۔
دونوں جلسوں کا مقصد ایک تھا۔ ’’مسجد اقصی کی آتش زدگی کے خلاف ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات کا اظہار کرنا‘‘ دونوں جلسوں میں ہندوستان کے مسلم قائدین کے ساتھ عرب سفراء بھی بلائے گئے تھے۔ راقم الحروف دونوں جلسوں میں شریک ہوا اور دونوں قسم کے مقررین کی تقریریں سنیں۔ دونوں جلسوں میں پرجوش تقریریں ہوئیں۔ تمام مقررین کی تقریروں کا خلاصہ یہ تھا کہ اسرائیل کے مقابلہ میں عربوں کو اس لئے شکست ہوئی کہ وہ متحد نہیں تھے۔ انھوں نے مشورہ دیا ’’اے عربو! متحد ہو کر اسرائیل کا مقابلہ کرو‘‘ میں جب دونوں جلسوں کو دیکھ کر واپس ہوا تو دل کی عجیب حالت تھی۔ بے اختیار میری زبان سے نکلا —————— ہم متحد ہو کر مشورہ بھی نہیں دے سکتے اور وہ متحد ہو کر مقابلہ کریں !
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اتحاد کی باتوں کے باوجود اتحاد قائم نہیں ہوتا۔ ہمارا ہر قائد اتحاد کی باتیں کرتا ہے مگر عملاً اس کے الفاظ بالکل بے اثر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی اپنے اس کہنے میں سنجیدہ نہیں۔ ہر آدمی اتحاد کا پیغام دینے کا کریڈٹ تو لینا چاہتا ہے مگر وہ اس کے عملی تقاضے پورا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ لوگ جو کچھ کہتے ہیں کرتے نہیں، کیونکہ وہ اس کی قیمت دینا نہیں چاہتے۔ اتحاد کی واحد لازمی قیمت اپنی بے اتحادی کو ختم کرنا ہے۔ جب تک آدمی اپنی بے اتحادی کو ختم نہ کرے اتحاد قائم نہیں ہوسکتا۔ جو آدمی اتحاد کی دعوت دے رہا ہے وہ خود بھی انھیں میں سے ایک ہے جن کے ملنے سے مطلوبہ اتحاد قائم ہوگا۔ پھر اگر وہ اپنے کو اس میں شامل نہ کرے تو اتحاد کی تشکیل کس طرح ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے کو دوسرا کے ساتھ شامل کرنے کا نام اتحاد ہے اور اپنے کو دوسرے سے الگ کرنے کا نام اختلاف۔ جہاں ہر آدمی اپنی انفرادیت پر اصرار کرے، جہاں ہر آدمی ہر کام کا کریڈٹ خود لینا چاہے وہاں اتحاد کیونکر قائم ہوگا۔ اتحاد نام ہے مجموعہ کے لئے اپنی ذات کو قربان کرنے کا۔ جو لوگ اپنی ذات یا اپنے گروہ کی قربانی پر تیار نہ ہوں وہ اگر اتحاد کے لئے پکارتے ہیں تو گویا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ لوگو میرے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جاؤ، لوگو میری سرداری کو قبول کر لو۔ ایسے لوگوں کے لئے زیادہ بہتر تھا کہ وہ لوگوں کو اختلاف کے لئے پکاریں، وہ انتشار کا جھنڈا بلند کریں۔ کیونکہ ایسی صورت میں وہ خدا کے یہاں کم از کم دو عملی کا مجرم قرار دئے جانے سے بچ سکتے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues