Al-Risala · November 1981 · page 46

اتحاد کی قیمت : شخصی جذبات کی قربانی

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۶

اتحاد کی قیمت : شخصی جذبات کی قربانی

آپ کسی مسلم لیڈر سے ملئے، کسی مسلم ادارہ میں جائیے۔ ہر ایک آپ کو اپنے کارناموں کی لمبی فہرست بتائے گا۔ ہر جگہ آپ کو شان دار ایڈریس شاندار فریم میں دیواروں کی زینت بنے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ہمارا ہر لیڈر اور ہمارا ہر ادارہ اپنے بیان کے مطابق ،عظیم الشان کارنامے انجام دے رہا ہے۔ مگر ان کارناموں کو ان کی مجموعی صورت میں دیکھنا چاہیں تو وہ کہیں نظر نہیں آتے۔ افراد کی مجموعی صورت ہی کا نام اسلام یا ملت اسلام ہے۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ اسلامی افراد الگ الگ فتوحات کے جھنڈے لہرارہے ہیں مگر اسلام ساری دنیا میں مغلوب ہے۔ ملت کے افراد الگ الگ کامیابیوں کے مینار کھڑے کر رہے ہیں مگر ملت ناکامی کی پستی میں پڑی ہوئی ہے۔ اینٹیں سونے کی ہیں مگر ان کے ملنے سے جو محل بنا ہے وہ مٹی کا ہے۔ درخت سیب کے ہیں مگر ان سے جو باغ تیار ہوا ہے وہ ببول کا خارستان ہے۔

اس عجیب و غریب تضاد کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کام کو اسلام کا کام بتایا جا رہا ہے وہ حقیقہ اسلام کا کام ہے ہی نہیں۔ یہ سب افراد کے اپنے کاروبار ہیں۔ اس لئے افراد کی سطح پر ان کے کچھ جلوے نظر آتے ہیں مگر اجتماع (اسلام) کی سطح پر ان کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا۔ لوگوں نے اپنی قیادت کے کاروبار پر ملت کا لیبل لگا رکھا ہے۔ اپنی ذاتی تجارت کو اسلام کا نام دے دیا ہے۔ ایسی حالت میں ان کی سرگرمیوں کے نتائج اسلام یا ملت اسلام کی سطح پر کیوں کر نظر آئیں گے۔ ایک بڑے شہر میں ایک لاکھ کامیاب دکانیں ہیں۔ ہر دکان دار صبح شام پیسے کما رہا ہے۔ آپ جس دکان دار سے بھی ملیں، اس کے پاس اپنی کامیابیوں کی داستان بتانے کے لئے بے شمار الفاظ ہوں گے۔ تاہم اگر آپ چاہیں کہ ان ایک لاکھ دکان داروں کی کمائیاں کسی ایک مقام پر روپیوں کے پہاڑ کی صورت میں دکھائی دیں تو آپ کو بالکل ناکامی ہوگی۔ کیوں کہ ہر دکان دار جو کما رہا ہے وہ اپنی ذات کے لئے کما رہا ہے نہ کسی مجموعہ ، کے لئے۔ چنانچہ ہر دکان دار کا اپنا مکان شان دار طور پر بن رہا ہے ۔ اس کی ذاتی زندگی میں اس کی کمائی کی چمک دمک آپ خوب دیکھ سکتے ہیں۔ مگر کسی مجموعہ کے لئے وہ کماہی نہیں رہا ہے اس لئے مجموعہ کی سطح پر اس کی کامیابیاں نظر بھی نہیں آتیں ۔ افراد کے کاروبار افراد کی سطح پر نظر آسکتے ہیں، اجتماع کی سطح پر وہ کیوں کر دکھائی دیں گے۔ اسی سے اسلام کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے ، افراد کا اسلامی کام اسی وقت اسلامی کام ہے جب کہ اس کا فائدہ مجموعہ اسلام کو مل رہا ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ انفرادی کاروبار ہے خواہ اس کو کرتے ہوئے کتنا ہی زیادہ اسلام کی تلاوت کی جارہی ہو۔ اور اس کے اوپر کتنے ہی عالی شان اسلامی بورڈ لگے ہوئے ہوں۔ جوتے اور کپڑے کی دکان آدمی اس لئے کھولتا ہے کہ اس سے اس کو نفع حاصل ہو، اسی مزاج کے تحت اگر کسی بظاہر اسلامی کام کو کیا جائے تو اس کا ظاہری طور پر اسلامی ہونا اس کو خدا کی نظر میں اسلامی نہیں بناتا۔ کیونکہ اسلام میں عمل کا دارو مدار نیت پر ہے۔ اللہ کو وہ عمل پسند ہے جو صرف اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کیا گیا ہو۔ پھر جس کام کو دنیوی مقاصد کے لئے کیا جائے اس پر خدا کی برکتیں کس طرح نازل ہوں گی ۔

پہاڑوں پر بے شمار چھوٹے چھوٹے جھرنے جاری ہوتے ہیں۔ اپنی انفرادی حیثیت میں وہ صرف پانی کے سوت کی مانند

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page