Al-Risala · November 1981 · page 47

اتحاد کی قیمت : شخصی جذبات کی قربانی

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۷

ہوتے ہیں۔ مگر جب قدرت ان کو ایک دھارے میں ملا دیتی ہے تو ان کا ملنا ایک بڑے دریا کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ وہی چیز اہل ایمان کی اسلامی کوششوں کے سلسلہ میں بھی مطلوب ہے۔ " اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں جیسے کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں (صف (۴) یہی اسلامی عمل اللہ کے نزدیک اسلامی عمل ہے جس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہو، جب کہ انفرادی کوششیں اس طرح جاری ہوں کہ دبالاخر دہ سب کی سب مل کر ایک دریا بن جائیں۔ اس کے برعکس اگر افراد کی اسلامی کوششیں الگ الگ جھرنوں کی صورت میں بہتی رہیں اور دوسروں کی اسلامی کوششوں سے مل کر ایک بڑا دھارا نہ بنیں تو وہ خدا کے نزدیک بے قیمت ہیں۔

اگر لوگ ذاتی محرک کے تحت کام کر رہے ہوں تو ان کا اسلامی عمل انفرادی عمل بن کر رہ جاتا ہے اور اگر وہ خدا کے لئے متحرک ہوئے ہوں تو ناممکن ہے کہ ان کا عمل صرف اپنی ذات کے گرد گھومے، دوسروں کے ساتھ مل کر بڑا دھارا نہ بنے۔ لوہے کے ٹکڑے اس وقت تک الگ الگ رہتے ہیں جب کہ ان کے درمیان کوئی مقناطیس نہ ہو۔ جب ان کے درمیان ایک مقناطیس آجائے تو لازماً وہ سب مقناطیس کے گرد جڑ کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اہل اسلام کی کوششیں اگر حقیقۃً خدا کے لئے ہورہی ہوں تو خدا کی ذات ایک عظیم مقناطیس بن جاتی ہے جو تمام کوششوں کو ایک نقطہ کے گرد سمیٹ دیتی ہے۔ اہل اسلام کی کوششوں کا انتشار اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ خدا کے لئے نہ ہو بلکہ اپنی ذات کے لئے ہو۔ اجتماعی کام کے لئے جب کچھ لوگ ساتھ ہوتے ہیں تو طرح طرح کی ناموافق باتیں پیش آتی ہیں۔ کبھی مزاجوں کا اختلاف دل شکنی کا باعث ہوتا ہے۔ کبھی کسی کی تنقید سے خفت اٹھانی پڑتی ہے۔ کبھی ایک شخص کی کمزوری سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے۔ کبھی ضرورت ہوتی ہے کہ سنانے کے شوق کو دبا کر سننے کے لئے اپنے کو آمادہ کیا جائے۔ کبھی تقاضا ہوتا ہے کہ دوسرے کی صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کے لئے راضی کیا جائے۔ غرض بار بار ایسے مواقع سامنے آتے ہیں جہاں اپنی انفرادیت کو کچلنے کا سوال ہوتا ہے۔ یہی مواقع آدمی کے جذبہ اتحاد کا امتحان ہوتے ہیں۔ کوئی بڑا اسلامی کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جن کے اندر اتنی بلندی ہو کہ وہ مفاد اور مصلحت کے بغیر جڑ سکتے ہوں۔ وہ اس وقت بھی اپنے بھائی کی قدر کریں جب کہ اس سے ان کی ذات کو خوشامد کی غذا نہ مل رہی ہو۔ وہ اپنے بھائی کے اوپر خرچ کریں مگر ان کے اندر اپنے بڑے ہونے کا احساس نہ پیدا ہو۔ وہ اپنے بھائی کی کمزوری کو دیکھیں مگر اس کو نمایاں کرنے کا جذبہ ان کے اندر نہ ابھرے۔ وہ دوسرے کی زبان سے اپنے بارے میں کڑوی بات سنیں مگر ان کے دل میں دوسرے کے لئے نفرت کا جذبہ نہ پیدا ہو۔ دوسرے کی طرف سے ان کے مزاج کے خلاف رویہ ظاہر ہو مگر اس کو وہ دوسرے کے بارے میں رائے قائم کرنے کی بنیاد نہ بنائیں۔ دوسرے کی ذات سے ان کا کوئی مفاد وابستہ نہ ہو پھر بھی وہ خدا کے لئے اس سے محبت کریں۔ اسی کا نام "صبر" ہے۔ اور اسی قسم کے صبر والے لوگ کوئی بڑا دینی کام کرتے ہیں اور انھیں لوگوں کے ملنے سے وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کا نام اسلامی اتحاد ہے۔

اتحاد کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ شخصی قربانی ہے جس گروہ کے افراد میں یہ طاقت ہو کہ وہ اپنے شخصی تقاضوں کو اجتماع کی خاطر با سکیں، ان میں اتحاد قائم ہو کر رہتا ہے، اور وہی ہیں جو کوئی بڑا کام کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page