Al-Risala · February 1981 · page 4

ایک کے بجائے دو

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۴

ایک کے بجائے دو

ولیم دوم جرمنی کا بادشاہ تھا۔ اپنے باپ شہنشاہ فریڈرک کے بعد ۱۸۸۸ میں تخت پر بیٹھا۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا۔ اس نے جرمنی کو فوجی اعتبار سے ترقی دینے میں کافی دل چسپی لی۔ مگر اس کا فوجی استحکام اس کی شہنشاہیت کو بچانے میں کامیاب نہ ہوا۔ ملکی حالات کے تحت اس کو تخت چھوڑنا پڑا۔ نومبر ۱۹۱۸ میں وہ حکومت چھوڑ کر ہالینڈ چلا گیا اور وہاں خاموشی کے ساتھ زندگی گزار کر مر گیا۔ اس کی جلاوطنی کی موت گویا اس بات کا ایک واقعاتی ثبوت تھی کہ فوجی قوت کے مقابلہ میں حالات کی قوت زیادہ اہم ہے جنگِ عظیم اول سے کچھ پہلے کا واقعہ ہے۔ جرمنی کا مذکورہ بادشاہ ولیم دوم سوئزرلینڈ گیا ہوا تھا وہ وہاں کی منظم فوج کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے مزاحیہ انداز میں سوئزر لینڈ کے ایک فوجی سے پوچھا: اگر جرمنی کی فوج جس کی تعداد تمھاری فوج سے دگنی ہو، تمھارے ملک پر حملہ کر دے تو تم اس وقت کیا کرو گے۔ اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا :

سر، ہم کو بس ایک کے بجائے دو فائر کرنے پڑیں گے

اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں اصل اہمیت تعداد کی نہیں بلکہ محنت اور کار کردگی کی ہے۔ آپ کا حریف اگر تعداد میں زیادہ ہو تو آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنی محنت اور کارکردگی میں اضافہ کرکے کم تعداد کے باوجود زیادہ تعداد پر غالب آسکتے ہیں۔

دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جس آسامی کے لیے بی اے کی قابلیت کی شرط ہو اور بی اے والوں نے درخواستیں دے رکھی ہوں، وہاں آپ بھی بی اے کی ڈگری لے کر پہنچ جائیں اور جب آپ کو نہ لیا جائے تو شکایت کریں کہ کیوں آپ کے مقابلہ میں دوسرے امیدوار کو ترجیح دی گئی، جب کہ دونوں یکساں طور پر گریجویٹ تھے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جہاں لوگ بی اے کی ڈگریاں پیش کر رہے ہوں وہاں آپ ماسٹر ڈگری لے کر پہنچیں، جہاں لوگ مطابق شرائط قابلیت کی بنیاد پر اپنا حق مانگ رہے ہوں وہاں آپ بر تراز شرائط قابلیت دکھاکر اپنا حق تسلیم کرائیں۔

یہی دوسرا طریقہ زندگی کا اصلی طریقہ ہے۔ تمام بڑی بڑی ترقیاں اور کامیابیاں انھیں لوگوں کے لئے مقدر ہیں جو بر تر قابلیت لے کر زندگی کے میدان میں داخل ہوں۔ جن لوگوں کے پاس صرف کم تر لیاقت یا برابر کی لیاقت کا سرمایہ ہو ان کے لئے صرف ایک ہی انجام مقدر ہے ۔ مقابلہ کی اس دنیا میں دوسروں سے پچھڑ جانا اور اس کے بعد بے فائدہ احتجاج میں اپنا وقت ضائع کرتے رہنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page