امکان کبھی ختم نہیں ہوتا
الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۵
امکان کبھی ختم نہیں ہوتا
مغرب کی طرف پھیلی ہوئی پہاڑیوں کے اوپر سورج ڈوب رہا تھا۔ آفتابی گولے کا آدھا حصہ پہاڑ کی چوٹی کے نیچے جا چکا تھا اور آدھا حصہ اوپر دکھائی دیتا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد پورا سورج ابھری ہوئی پہاڑیوں کے پیچھے ڈوب گیا۔
اب چاروں طرف اندھیرا چھانے لگا۔ سورج دھیرے دھیرے اپنا اجالا سمیٹتا جا رہا تھا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سارا ماحول گہری تاریکی میں ڈوب جائے گا۔ مگر عین اس وقت جب کہ یہ عمل ہو رہا تھا، آسمان پر دوسری طرف ایک اور روشنی ظاہر ہونا شروع ہوئی۔ یہ بارھویں کا چاند تھا جو سورج کے چھپنے کے بعد اس کی مخالف سمت سے چمکنے لگا۔ اور کچھ دیر کے بعد پوری طرح روشن ہو گیا۔ سورج کی روشنی کے جانے پر زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک نئی روشنی نے ماحول پر قبضہ کر لیا۔
”یہ قدرت کا اشارہ ہے“ میں نے اپنے دل میں سوچا ”کہ ایک امکان جب ختم ہوتا ہے تو اسی وقت دوسرے امکان کا آغاز ہو جاتا ہے، سورج غروب ہوا تو دنیا نے چاند سے اپنی بزم روشن کر لی۔ اسی طرح افراد اور قوموں کے لئے بھی ابھرنے کے امکانات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ زمانہ اگر ایک بار کسی کو گرا دے تو خدا کی اس دنیا میں اس کے لئے مایوس ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ وہ نئے مواقع کو استعمال کر کے دوبارہ اپنے ابھرنے کا سامان کر سکتا ہے ضرورت صرف یہ ہے کہ آدمی دانش مندی کا ثبوت دے اور مسلسل جدوجہد سے کبھی نہ اکتائے۔
یہ دنیا خدا نے عجیب امکانات کے ساتھ بنائی ہے۔ یہاں مادہ فنا ہوتا ہے تو وہ توانائی بن جاتا ہے۔ تاریکی آتی ہے تو اس کے بطن سے ایک نئی روشنی برآمد ہو جاتی ہے۔ ایک مکان گرتا ہے تو وہ دوسرے مکان کی تعمیر کے لئے زمین خالی کر دیتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کے واقعات کا ہے۔ یہاں ہر ناکامی کے اندر سے ایک نئی کامیابی کا امکان ابھر آتا ہے۔ دو قوموں کے مقابلہ میں ایک قوم آگے بڑھ جائے اور دوسری قوم پیچھے رہ جائے تو بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ اس کے بعد ایک اور عمل شروع ہوتا ہے۔ بڑھی ہوئی قوم کے اندر عیش پرستی اور سہولت پسندی آ جاتی ہے۔ دوسری طرف بچھڑی ہوئی قوم میں محنت اور جدوجہد کا نیا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی اس دنیا میں کسی کے لئے پست ہمت یا مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ حالات خواہ بظاہر کتنے ہی ناموافق دکھائی دیتے ہوں، اس کے آس پاس آدمی کے لئے ایک نئی کامیابی کا امکان موجود ہو گا۔ آدمی کو چاہئے کہ اس نئے امکان کو جانے اور اس کو استعمال کر کے اپنی کھوئی بازی کو دوبارہ جیت لے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues