Al-Risala · December 1981 · page 4

جنت والے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴

جنت والے

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان کو جس جنت میں داخل کیا جائے گا اس کی معرفت انھیں اسی دنیا میں کرائی جا چکی ہوگی (وید خلهم الجنة عرفھا لھم، محمد) دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ جنت کا رزق اس رزق کے مشابہ ہوگا جس کی توفیق انھیں دنیا کی زندگی میں ملی تھی (واتوا به متشابها، بقرہ) حدیث میں کہا گیا ہے کہ جنت دوزخ دراصل انسان ہی کے اعمال ہیں جو آدمی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں (انما ھی اعمالكم ترد اليكم)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ کا آغاز اسی دنیا سے ہو جاتا ہے۔ جنتی انسان اپنی جنت کو اسی دنیا میں پالیتا ہے۔ گویا کہ جنت کا ایک مثنی اسی دنیا میں ہے اور آخرت کی جنت میں وہی شخص جائے گا جس نے دنیا میں جنت کے اس مثنی کو پا لیا ہو۔ جنت کا یہ دنیوی مثنی گویا نقد انعام ہے جو اصل انعام سے پہلے اس کی ایک ابتدائی علامت کے طور پر دے دیا جاتا ہے۔

یہ جنتی کون ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے دنیا میں ان کیفیات کا تجربہ کیا ہو جو آخرت میں اس کو جنت کا مستحق بنانے والی ہیں جس کے رونگٹے کھڑے ہو کر اس کو خدائی محاسبہ کا احساس دلا چکے ہوں جس کے قلب پر ٹکڑے کر دینے والی تجلیات کے نزول نے اس کو قربت خداوندی سے آشنا کیا ہو۔ جس نے بغض و انتقام کے جذبات کو اپنے اندر کچل کر عفو خداوندی کا مشاہدہ کیا ہو۔ جس نے اپنے ندامت کے آنسوؤں میں وہ منظر دیکھا ہو جب کہ ایک مہربان آقا اپنے خادم کے اعتراف قصور پر اس سے درگزر فرماتا ہے۔ جس پر یہ لمحہ گزرا ہو کہ ایک شخص پر قابو پانے کے باوجود وہ اس کو اس لئے چھوڑ دے کہ اس کا خدا بھی اس دن اسے چھوڑ دے جب کہ وہ اس سے زیادہ عجز کی حالت میں ہوگا۔ جو ایک امرق کے آگے اس طرح گر پڑے جیسے لوگ آخرت میں خدا کو دیکھ کر ڈھ پڑیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ مومن جنت کا ایک پھول ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں آنے والی دنیا کا ایک ابتدائی شگوفہ ہے۔ مومن پر وہ سارے تجربات اسی دنیا میں گزر جاتے ہیں جو دوسروں پر موت کے بعد گزرنے والے ہیں۔ آدمی کی زندگی میں مختلف قسم کے جو حالات پیش آتے ہیں انھیں میں ہر آدمی کی جنت اور جہنم چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ ان حالات میں شیطانی رد عمل پیش کرکے کوئی شخص جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے اور ملکوتی رد عمل پیش کرکے کوئی شخص جنت کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page