شرک خفی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۵
شرک خفی
اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوش ہو جاتے ہیں‘‘۔ زمر ۴۵ آلوسی بغدادی نے اس آیت کی تفسیر میں اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کیا ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی کسی مصیبت میں ایک مرے ہوئے بزرگ کو پکار رہا ہے۔ انھوں نے کہا، اے شخص! خدا کو پکار۔ وہ خود فرماتا ہے کہ واذا سألت عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوة الداع اذا دعان (بقره) ان کی یہ بات سن کر آدمی سخت غصہ میں آگیا۔ بعد کو لوگوں نے انھیں بتایا کہ وہ کہتا تھا کہ ” آلوسی اولیاء کے منکر ہیں “ کچھ لوگوں نے اس کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا کہ اللہ کی نسبت ولی جلد سن لیتے ہیں۔
یہ ذہنیت کبھی کھلی کھلی غیر اللہ پر اعتماد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جس کو شرک جلی کہا جاتا ہے۔ کبھی یہ ذہنیت شرک خفی کی صورت میں ہوتی ہے جس کو آج کل کی زبان میں شخصیت پرستی کہا جا سکتا ہے۔ آپ کثرت سے ایسے مذہبی حلقے پائیں گے جہاں بظاہر اللہ اللہ کا ورد ہوتا ہے اور قرآن پڑھا پڑھایا جاتا ہے، لیکن اگر وہاں کی مجلسوں میں خدا کی باتوں کا چرچا کیجئے تو لوگوں کو کوئی خاص دل چسپی نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس اپنی پسندیدہ شخصیتوں کے چرچے رات دن ہوتے رہتے ہیں اور اس سے ان کی دل چسپی کبھی ختم نہیں ہوتی۔
اکثر حالات میں شرک خفی، شرک جلی سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بظاہر برا نہ دکھائی دینے کی وجہ سے اکثر لوگ اس میں مبتلا رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو شرک جلی کے خلاف لسانی اور قلمی جہاد ہی کو اپنا مشغلہ بنائے ہوئے ہیں۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اہل ایمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں (البقرہ ۱۶۵) دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ ہدایت یافتہ وہ ہے جو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے (التوبہ ۱۸) اس سے معلوم ہوا کہ توحید یہ ہے کہ شدید محبت اور شدید خوف کا تعلق صرف ایک اللہ سے ہو جائے۔ اس کے مقابلہ میں شرک یہ ہے کہ آدمی اپنی شدید محبت اور اپنے شدید خوف کا مرکز اللہ کے سوا کسی اور کو بنائے خواہ وہ کوئی زندہ ہو یا مردہ۔
اس معیار پر جانچیے تو معلوم ہوگا کہ بہت سے لوگ جو اپنے کو شرک سے محفوظ سمجھتے ہیں دراصل کچھ علامات شرک سے محفوظ ہیں نہ کہ فی الواقع حقیقت شرک سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues