کتنا فرق
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۸
ہو، غالب آسکتے ہیں (۵۵)۔ برنیئر نے اپنے تقریباً ۵۰۰ صفحات کے سفرنامہ میں لکھا کہ ہندوستان میں تخت نشینی کے لئے جنگ ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ جانشینی کے واضح اصول نہ ہونے کی وجہ سے کسی شہزادہ کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ یا تو خود تخت حاصل کرے یا اپنے بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے لئے تیار ہوجائے۔ اس نے لکھا کہ شاہی امرار کا اعزاز موروثی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ایک مستقل طبقہ امرار وجود میں نہیں آ پاتا۔ جب تک ایسا نہ ہوگا سیاسی نظام کا استحکام ممکن نہیں ہے۔ وغیرہ مغربی ملکوں کے سیاح جس زمانہ میں اپنی قوموں اور بادشاہوں کو اس قسم کی معلومات دے رہے تھے ٹھیک اسی زمانہ میں ہمارے یہاں کیا حال تھا۔ عین اس زمانہ میں لال قلعہ کے حکمراں کو اس کے قصیدہ خواں شاہ جہاں کا خطاب دے رہے تھے اور اس کے ذہن پر یہ تصور بٹھارہے تھے کہ جو ہندوستان کا بادشاہ ہے وہی سارے عالم کا بادشاہ ہے۔ اور نگ زیب کے استاد ملا محمد صالح اپنے شاگرد شہزادہ کو یہ بتا رہے تھے کہ یورپ بس ایک چھوٹے سے جزیرے کے برابر ہے، فرانس اور اندلس کے بادشاہ ایسے ہی ہیں جیسے ہندوستان کے چھوٹے چھوٹے راجہ۔ وہ اور نگ زیب کو ایسے فلسفہ اور منطق کا ماہر بنا رہے تھے جو جنگی مقابلوں طرز حکمرانی اور قوموں کے ترقی و تنزل کو سمجھنے میں کام آتا تو درکنار اس قابل بھی نہ تھا کہ وہ آدمی کے اندر ایسا ذہن بنائے جو دلیل صحیح کے بغیر کسی چیز کو تسلیم نہ کرے اور اپنے اور غیر کے بارے میں حقیقی بنیادوں پر رائے قائم کر سکے۔ برنیئر نے اپنے سفرنامہ میں تفصیل سے بتایا ہے کہ مغل شہزادوں کی تعلیم و تربیت کتنے غیر حقیقی انداز میں دی جاتی ہے (۱۵۶)
یہ تین سو سال پہلے کا واقعہ ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ آج بھی صورت حال ہمارے یہاں زیادہ مختلف نہیں۔ آج جب کہ دوسری قوموں کے رہنما اپنی قوموں کو حقیقت پسندی کا سبق دے رہے ہیں، مسلم قائدین ہر جگہ مسلمانوں کو جذبات کی شراب پلانے میں مشغول ہیں نہ کوئی پراسرار عملیات میں کامیابی کا راز بتا رہا ہے کوئی شاعری اور خطابت میں۔ کوئی جلسہ جلوس میں ترقی کا راستہ دکھارہا ہے اور کوئی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ میں۔ کوئی تجویزوں اور بیانات کے ذریعہ ملت کی تعمیر کا یقین دلا رہا ہے اور کوئی دوروں اور تقریروں کے ذریعہ ہمارے یہاں "ملا محمد صالح" تو بے شمار ہیں۔ مگر "ڈاکٹر برنیئر" کوئی ایک بھی نہیں۔ پوری ملت ایسے افراد سے خالی نظر آتی ہے جو آج کی دنیا کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیں اور خالص واقعاتی انداز میں وقت کے حقائق سے ملت کو باخبر کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملا محمد صالح بننے کے لئے تو صرف ابن الوقتی کا سرمایہ کافی ہے، جب کہ ڈاکٹر برنیئر بننے کے لئے پُر مشقت عمل درکار ہے، اور اپنے کو مشقت میں ڈالنے کے لئے کوئی تیار نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues