Al-Risala · December 1981 · page 7

کتنا فرق

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۷

کتنا فرق

سترھویں صدی میں جب کہ مغربی قو میں ایشیا اور افریقہ میں داخل ہو ئیں، ان سے پہلے ان کے سیاح کثرت سے ان ملکوں میں آئے۔ انھوں نے یہاں کی مقامی زبانیں سیکھیں، لوگوں سے میل جول پیدا کیا۔ لمبی لمبی مدت تک یہاں رہے۔ اس کے بعد انھوں نے یہاں کے حالات کے بارے میں تفصیل سے کتابیں لکھیں اور اپنی حکومتوں اور اپنی قوموں کو یہاں کے حالات سے باخبر کیا۔

انھیں میں سے ایک فرانسیسی سیاح ڈاکٹر برنیئر (Bernier) ہے۔ وہ ایک باقاعدہ تعلیم یافتہ طبیب تھا۔ اس کے طب نے اس کو موقع دیا کہ وہ جہاں جائے وہاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے درمیان گھل مل کر رہ سکے۔ وہ اپنے اس فن کی وجہ سے اعلیٰ شخصیتوں تک رسائی کے قابل ہو گیا۔ برنیئر ۱۶۲۰ء میں پیدا ہوا ۔ ۱۶۴۷ء میں اس نے جرمنی ، پولینڈ، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی کی سیاحت کی اور ان ملکوں کی سماجی اور سیاسی زندگی کو قریب سے دیکھا۔ ۱۶۶۵ء میں بر صغیر ایشیا کے لئے روانہ ہوا۔ چند سال تک شام، مصر، فلسطین وغیرہ میں گھوما اور ۱۶۵۸ء میں ہندوستان میں سورت کی بندرگاہ پر اترا۔ یہ شاہ جہاں کا آخری زمانہ تھا اور اس کے بیٹوں میں اقتدار کی جنگ جاری تھی۔

برنیئر ہندوستان میں چودہ سال تک رہا۔ یہاں وہ سورت سے لے کر کشمیر تک بے شمار بستیوں میں گیا اور ہندوستانی زندگی کے ہر شعبہ کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ وہ لکھتا ہے کہ میں نے پلوٹارک کے اس قول پر عمل کیا ہے کہ جزئی اور معمولی باتوں کو بھی ضرور جاننا چاہئے۔ کسی قوم کے متعلق رائے قائم کرنے کے لئے وہ بڑی بڑی باتوں سے زیادہ کار آمد ہیں۔ ہندوستان سے واپس ہو کر برنیئر جب فرانس پہنچا تو اس نے فرانس کے بادشاہ لوئی چہار دہم (Louis XIV) کے سامنے اپنا سفر نامہ ان الفاظ کے ساتھ پیش کیا: دریائے سین سے نکل کر دجلہ، فرات، سندھ یا گنگا جہاں بھی میں پہنچا، فرانس اور اس کے شہنشاہ کے بارے میں لوگوں کی بہت اونچی رائے پائی۔

ہندوستان کے شہروں کا گہرا جائزہ لینے کے بعد برنیئر نے لکھا: یہاں کے شہر اور قصبے خواہ اس وقت بظاہر خستہ حال اور ویران نہ ہوں مگر ایسا شہر کوئی نہیں جس میں جلد تباہ اور خراب ہو جانے کی علامتیں نہ پائی جاتی ہوں (۲۲) ہندوستان کی اس وقت کی فوجوں کے بارے میں اس نے لکھا: جب میں ان بے ترتیب فوجوں کو دیکھتا تھا کہ حیوانوں کے گلوں کی مانند چلتی ہیں تو ہمیشہ یہ خیال آتا تھا کہ ہمارے صرف ۲۵ ہزار تجربہ کار سپاہی پرنس کوندی یا مارشل تورین کی قیادت میں ہندوستان کی فوج پر خواہ وہ کتنی ہی زیادہ کیوں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page