اخلاق کی طاقت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۱۳
کے منہ کے سامنے کر دیا۔ اس کا کف اپنے رومال پر لے لیا اور پھر غسل خانہ میں جاکر اسے دھو لیا۔ خاتون اس واقعہ سے بہت متاثر ہوئی۔ اس خاتون کو کبھی بھی جانا تھا جہاں مسٹر اجوانی جا رہے تھے۔ ہوائی جہاز جب وہاں پہنچا اور بوڑھی خاتون باہر آئی تو وہ یہ دیکھ کر پریشان ہوئی کہ اس کو لینے کے لئے کوئی ہوائی اڈہ پر نہیں آیا ہے۔ یہ خاتون کسی بڑے گھر سے تعلق رکھتی تھی اور اس کو لینے کے لئے کار آنا چاہئے تھی۔ مگر اس کی آمد کی صحیح اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے اس کے گھر سے کار نہ آسکی۔ مسٹر اجوانی نے یہاں دوبارہ اس کی مدد کی۔ انھوں نے کہا کہ میں ہوٹل جانے کے لئے ٹیکسی کر رہا ہوں۔ آپ اس پر بیٹھ جائیں۔ میں پہلے آپ کو آپ کے گھر اتار دوں گا۔ اس کے بعد اپنے ہوٹل پر جاؤں گا۔ چنانچہ انھوں نے بوڑھی خاتون کو اپنی ٹیکسی پر بٹھایا اور اس کو لے کر اس کے گھر پہنچے۔ خاتون نے اپنے گھر پہنچ کر ان کا نام اور پتہ پوچھا۔ انھوں نے اپنا نام اور ہوٹل کا پتہ لکھ کر دے دیا اور پھر اپنے ہوٹل آ گئے۔
کچھ دیر کے بعد بوڑھی خاتون کی لڑکی اپنے کام سے فارغ ہو کر گھر پہنچی تو دیکھا کہ اس کی ماں آئی ہوئی ہے ۔ اس نے کہا کہ ہم کو آپ کی آمد کی خبر نہ تھی اس لئے گاڑی ہوائی اڈہ پر نہ جا سکی ۔ آپ کو تو بہت تکلیف ہوئی ہوگی۔ ماں نے کہا کہ نہیں مجھ کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی اور اس کے بعد اس نے مسٹر اجوانی کی پوری کہانی سنائی۔ یہ سن کر لڑکی بہت متاثر ہوئی ۔ اس نے فوراً مذکورہ ہوٹل کو ٹیلی فون کر کے مسٹر اجوانی سے رابطہ قائم کیا اور کہا کہ ہم آپ کے بہت مشکور ہیں اور رات کا کھانا آپ ہمارے یہاں کھائیں۔ مسٹر اجوانی مقررہ پروگرام کے مطابق خاتون کے مکان پر پہنچ گئے۔ جب لوگ کھانے کی میز پر بیٹھے اور تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ بوڑھی خاتون کی لڑکی وہی لیڈی ڈاکٹر ہے جس کو مرد ایجنٹوں سے نفرت تھی اور وہ مرد ایجنٹوں سے ملاقات تک کی روادار نہ تھی۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ مسٹر اجوانی دوا ساز کمپنی کے سیلزمین ہیں تو اسی وقت اس نے خود اپنی طرف سے دواؤں کا ایک بڑا آرڈر لکھوا دیا۔ اور کہا کہ ہمارے یہاں دواؤں کی بہت کھپت ہے ۔ آپ تو ہم کو مستقل گاہک سمجھ لیجیے اور ہر مہینہ دوائیں بھیجتے رہیے۔ مسٹر اجوانی کھانے اور ملاقات سے فارغ ہو کر ہوٹل واپس آئے اور اسی وقت کلکتہ میں اپنے ڈائریکٹر کو ٹرنک کال کیا۔ انھوں نے اپنے ڈائریکٹر کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مذکورہ لیڈی ڈاکٹر سے میں نے اتنے ہزار کا آرڈر حاصل کر لیا ہے۔ ڈائریکٹر نے فوراً کہا تم غلط کہہ رہے ہو۔ ایسا تو کبھی ہو نہیں سکتا۔ تاہم اگلی ڈاک سے جب ڈائریکٹر کے پاس مذکورہ لیڈی ڈاکٹر کا چیک اور اس کا دستخط شدہ آرڈر پہنچا تو اس کو معلوم ہوا کہ وہ واقعہ بالفعل پیش آچکا ہے جس کو وہ اب تک ناممکن سمجھے ہوئے تھا۔
۲۱ نومبر ۱۹۸۰ء کی ملاقات میں میں نے مسٹر اجوانی سے پوچھا کہ آپ کو تجارت کا بہت تجربہ ہے۔ یہ بتائیے کہ تجارت میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا: میٹھی زبان، اچھا سلوک۔ میں نے کہا ہاں، اور اس وقت بھی جب کہ بظاہر اس کا کوئی فائدہ نظر نہ آتا ہو۔ میٹھی زبان اور اچھا سلوک ہر حال میں مفید ہے، لیکن اگر وہ آدمی کا عام اخلاق بن جائے تو اس کے فائدوں کا کوئی ٹھکانا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues