معلومات نہیں، ذہنی رجحان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۰
مشرکوں کا کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں حالاں کہ وہ خود اپنے اوپر کفر کے گواہ ہیں۔ ان لوگوں کے اعمال اکارت گئے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں۔ اللہ کی مسجدوں کو تو وہ آباد کرتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ ایسے لوگ امید ہے کہ ہدایت پانے والوں میں سے بنیں۔ کیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام کے بسانے کو برابر کر دیا اس شخص کے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا، ان کا درجہ اللہ کے یہاں بڑا ہے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے اپنی رحمت اور خوشنودی کی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لئے دائمی نعمت ہوگی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ بے شک اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے ۔ ۲۲ - ۱۷ نزولِ قرآن کے وقت عرب میں یہ صورت حال تھی کہ مسلمان رسول اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع تھے اور مشرکین بیت اللہ کے گرد۔ اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عظمتوں کی وہ تاریخ وابستہ نہیں ہوئی تھی جس کو آج ہم جانتے ہیں۔ لوگوں کو آپ عام انسانوں کی طرح ایک انسان دکھائی دیتے تھے۔ دوسری طرف مسجد حرام ہزاروں برس کی تاریخ کے نتیجہ میں عظمت و تقدس کی علامت بنی ہوئی تھی۔ مشرکین کی نظر میں اپنی تصویر تو یہ تھی کہ وہ ایک مقدس ترین مرکز کے خادم اور آباد کار ہیں۔ دوسری طرف جب وہ مسلمانوں کو دیکھتے تو اس وقت کے حالات میں ان کو ایسا معلوم ہوتا جیسے کچھ لوگ بس ایک دیوانہ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
مگر مشرکین کا یہ خیال سراسر باطل تھا۔ وہ ظواہر کا تقابل حقائق سے کرنے کی غلطی کر رہے تھے۔ مسجد حرام کے زائرین کو پانی پلانا، اس کے اندر روشنی اور صفائی کا انتظام۔ کعبہ پر غلاف چڑھا دینا۔ مسجد کے فرش اور دیوار کی مرمت ، یہ سب ظاہری نمائشی کی چیزیں ہیں۔ یہ بھلا ان اعمال کے برابر ہو سکتی ہیں جب کہ آدمی اللہ کو پا لیتا ہے اور آخرت کی فکر میں جینے لگتا ہے۔ وہ اپنی زندگی اور اپنے اثاثہ کو خدا کے حوالے کر دیتا ہے۔ وہ دوسری تمام بڑائیوں کا انکار کر کے ایک خدا کو اپنا بڑا بنا لیتا ہے۔ سچائی کو پانے والے دراصل وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کو معانی کی سطح پر پایا نہ کہ ظواہر کی سطح پر۔ جو قربانی کی حد تک سچائی سے تعلق رکھنے والے ہوں نہ کہ محض سطحی اور نمائش کارروائیوں کی حد تک۔
اللہ سے تعلق کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تعلق وہ ہے جو رسمی عقیدہ کی حد تک ہوتا ہے، جس میں آدمی کچھ دکھاوے کے اعمال تو کرتا ہے مگر اپنے کو اور اپنے مال کو خدا کی راہ میں نہیں دیتا۔ دوسرا تعلق وہ ہے جب کہ آدمی اپنے ایمان میں اتنا سنجیدہ ہو کہ اس راہ میں اس کو جو کچھ چھوڑنا پڑے وہ اس کو چھوڑ دے اور جو چیز دینی پڑے اس کو دینے کے لئے تیار ہو جائے۔ یہی دوسری قسم کے بندے ہیں جو مرنے کے بعد خدا کے یہاں اعلیٰ ترین انعامات سے نوازے جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues