Al-Risala · December 1981 · page 21

معلومات نہیں، ذہنی رجحان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۱

تذکیر القرآن التوبہ ۹ اے ایمان والو اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو ووست نہ بناؤ اگر وہ ایمان کے مقابلہ میں کفر کو عزیز رکھیں ۔ اور تم میں سے جو ان کو اپنا دوست بنائیں گے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔ کہو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو، سب تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ نافرمان لوگوں کو راستہ نہیں دیتار لوگوں کے لئے اپنا خاندان، اپنی جائداد، اپنے معاشی مفادات سب سے قیمتی ہوتے ہیں۔ انھیں چیزوں کو وہ سب سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ ہر دوسری چیز کے مقابلہ میں وہ ان کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنا سب کچھ ان کے اوپر نثار کر دیتے ہیں۔ اس قسم کی زندگی دنیا دارانہ زندگی ہے۔ ایسا آدمی جو کچھ پاتا ہے بس اسی دنیا میں پاتا ہے۔ موت کے بعد والی ابدی دنیا میں اس کے لئے کچھ نہیں۔ اس کے برعکس دوسری زندگی وہ ہے جب کہ آدمی اللہ اور رسول کو اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کو سب سے زیادہ اہمیت دے اور اس کی خاطر دوسری ہر چیز چھوڑنے کے لئے تیار رہے۔ یہی دوسری زندگی خدا پرستانہ زندگی ہے اور ایسے ہی لوگوں کے لئے آخرت میں ابدی جنتوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔

ایک زندگی وہ ہے جو دنیوی تعلقات اور دنیوی مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ دوسری زندگی وہ ہے جو ایمان کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ دونوں میں سے جس چیز کو بھی آدمی اپنی زندگی کی بنیاد بنائے، وہ ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وہ اس کی خاطر دوسری چیزوں کو چھوڑ دے۔ وہ کچھ لوگوں سے تعلق قائم کرے اور کچھ دوسرے لوگوں سے بے تعلق ہو جائے۔ وہ کچھ چیزوں کی بقار اور ترقی میں اپنی ساری توجہ لگادے اور کچھ دوسری چیزوں کی بقار اور ترقی کے معاملہ میں بے پروا بنا رہے۔ کچھ نقصانات اس کو کسی قیمت پر گوارا نہ ہوں، وہ جان پر کھیل کر اور اپنا بہترین سرمایہ خرچ کر کے ان کو بچانے کی کوشش کرے اور کچھ دوسرے نقصانات کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے مگر ان کے بارے میں اس کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہ ہو۔ یہ دنیا ہمیشہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو دنیا کی خاطر اپنا سب کچھ لگادیں۔ اسی طرح آخرت صرف ان لوگوں کے حصہ میں آئے گی جو آخرت کی خاطر دوسری چیزوں کو قربان کردیں۔ ترجیح ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرنے کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ حتیٰ کہ یہی آدمی کے کفر د ایمان کا فیصلہ کرتا ہے۔ خدا کی دنیا میں جس طرح کافروں کے لئے کامیابی مقدر نہیں ہے اسی طرح ان لوگوں کے لئے بھی یہاں کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ جو ایمان کا دعویٰ کریں اور جب نازک موقع آئے تو وہ آخرت پسندانہ روش کے مقابلہ میں دنیا دارانہ روش کو ترجیح دیں۔ ایسے مدعیان ایمان اگر اپنے بارے میں خوش فہمی میں مبتلا ہوں تو ان کو اس وقت معلوم ہو جائے گا جب اللہ اپنا فیصلہ ظاہر کر دے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page