Al-Risala · December 1981 · page 23

معلومات نہیں، ذہنی رجحان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۳

ان اہل کتاب سے لڑو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر اور نہ اللہ اور اس کے رسول کے حرام ٹھہرائے ہوئے کو حرام ٹھہراتے اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ اور یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ وہ ان لوگوں کی بات کی نقل کر رہے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اللہ ان کو ہلاک کرے، وہ کدھر بہکے جارہے ہیں۔ انھوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کو رب بنا ڈالا اور مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو صرف یہ حکم تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں۔ وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک کرتے ہیں۔ ۲۹ - ایمان زندہ ہو تو آدمی ہر واقعہ کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے۔ وہ کسی چیز کو صرف اس وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ خدا کی نسبت سے اس کے بارے میں رائے قائم کرلے۔ وہ پھول کی خوشبو کو اس وقت سمجھتا ہے جب کہ اس میں اسے خدا کی مہک مل جائے۔ وہ سورج کو اس وقت دریافت کرتا ہے جب کہ وہ اس کے معطی کو معلوم کرلے۔ ہر بُرائی اس کو خدا کا عطیہ نظر آتی ہے۔ ہر خوبی اس کو خدا کا احسان یاد دلاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر خدا سے آدمی کا تعلق گھٹ کر صرف موہوم عقیدہ کے درجہ پر آجائے تو خدا اس کے زندہ شعور کے لئے ایک لامعلوم چیز بن جائے گا۔ وہ دنیا کی نظر آنے والی چیزوں پر خدا کو قیاس کرنے لگے گا۔

دوسری قسم کے لوگ طبعی طور پر خالق کو ان دنیوی چیزوں کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں جن کو وہ جانتے ہیں۔ وہ خالق کو مخلوق کی سطح پر آتار لاتے۔ یہی حال یہود و نصاریٰ کا اپنے بگاڑ کے زمانہ میں ہوا۔ اب خدا ان کے یہاں موہوم معتقدات کے خانہ میں چلا گیا۔ چنانچہ وہ اپنے نظر آنے والے اکابر اور بزرگوں کو وہ درجہ دینے لگے جو درجہ خدائے عالم الغیب کو دینا چاہئے۔ انھوں نے دیکھا کہ یونانی اور رومی قومیں سورج کو خدا بنا کر اس کے لئے بیٹا فرض کئے ہوئے ہیں تو ان کو بھی اپنے بزرگوں کے لئے یہی سب سے اونچا لفظ نظر آیا۔ انھوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں اب اور ان کے الفاظ کی خود ساختہ تشریح کر کے خدا کو باپ اور اپنے پیغمبر کو اس کا بیٹا کہنا شروع کر دیا۔ حالاں کہ خدا صرف ایک ہی ہے ، وہ ہر مشابہت سے پاک ہے ، وہی تنہا اس کا مستحق ہے کہ اس کو بڑا بنایا جائے اور اس کی عبادت کی جائے ۔ رسول اللہ کے خلاف جارحیت کرنے والے مشرکین ( بنواسماعیل) بھی تھے اور اہل کتاب ( بنواسرائیل) بھی۔ مگر دونوں کے ساتھ الگ معاملہ کیا گیا۔ مشرکین کے ساتھ جنگ یا اسلام کا اصول اختیار کیا گیا۔ مگر اہل کتاب کے لئے حکم ہوا کہ اگر وہ جزیہ (سیاسی اطاعت) پر راضی ہو جائیں تو انھیں چھوڑ دو۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصلاً مخاطب تھے اور اہل کتاب تبعاً۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ جس قوم پر پیغمبر کے ذریعہ براہ راست دعوت پہنچائی جاتی ہے اس سے اتمام حجت کے بعد زندگی کا حق چھین لیا جاتا ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے کسی ریاست میں ایک شخص کے باغی ثابت ہونے کے بعد اس سے زندگی کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ مگر جہاں تک دوسرے گروہوں کا تعلق ہے ان کے ساتھ وہی سیاسی معاملہ کیا جاتا ہے جو عام بین الاقوامی اصول کے مطابق درست ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page