Al-Risala · December 1981 · page 22

معلومات نہیں، ذہنی رجحان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۲

تذکیر القرآن التوبہ ۹ بے شک اللہ نے بہت سے موقعوں پر تمھاری مدد کی ہے اور حنین کے دن بھی جب تمھاری کثرت نے تم کو ناز میں مبتلا کر دیا تھا۔ پھر وہ تمھارے کچھ کام نہ آئی۔ اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے رسول اور مومنین پر اپنی سکینت اتاری اور ایسے لشکر اتارے جن کو تم نے نہیں دیکھا اور اللہ نے کافروں کو سزا دی اور یہی کافروں کا بدلہ ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ جس کو چاہے تو بہ نصیب کر دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اے ایمان والو، مشرکوں بالکل ناپاک ہیں۔ پس وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ آئیں اور اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے تم کو بے نیاز کر دے گا اللہ علیم و حکیم ہے ۲۵ - ۲۸۔ مسلمانوں کا غلبہ کافروں کو ان کے کفر کی سزا کا اگلا نتیجہ ہے۔ مگر کافروں کا کفر مسلمانوں کے اسلام کی نسبت سے متحقق ہوتا ہے۔ اگر مسلمان اپنی اسلامیت کھودیں تو کافروں کا کفر کس چیز کے مقابلے میں ثابت ہو گا اور کس بنیاد پر خدا وہ تفریقی معاملہ کرے گا جو ایک کے لئے انعام بنے اور دوسرے کے لئے سزا۔

رمضان ۸ھ میں مسلمانوں نے قریش کو کامیاب طور پر مغلوب کر کے مکہ کو فتح کیا۔ مگر اگلے ہی مہینہ شوال ۸ھ میں ان کو ہوازن و ثقیف کے مشرک قبائل کے مقابلہ میں شکست ہوئی، جب کہ فتح مکہ کے وقت مسلمانوں کی تعداد دس ہزار تھی اور ہوازن و ثقیف سے مقابلہ کے وقت بارہ ہزار۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قریش سے مقابلہ کے وقت مسلمان صرف اللہ کے بھروسہ پر نکلے تھے۔ مگر ہوازن و ثقیف کے مقابلہ پر نکلتے ہوئے انھیں یہ ناز ہو گیا کہ اب تو ہم فاتح مکہ ہیں۔ ہمارے ساتھ بارہ ہزار آدمیوں کا لشکر ہے، آج ہم کو کون شکست دے سکتا ہے۔ جب وہ خدا کے اعتماد پر تھے تو انھیں کامیابی ہوئی، جب ان کو اپنی ذات پر اعتماد ہو گیا تو انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی ذات پر بھروسہ آدمی کے اندر گھمنڈ کا جذبہ ابھارتا ہے جس کے نتیجہ میں خارجی حقیقتوں سے بے پر وائی پیدا ہوتی ہے۔ وہ نظم کی پابندی میں کوتاہ ہو جاتا ہے۔ وہ بے جا خود اعتمادی کی وجہ سے غیر حقیقت پسندانہ اقدام کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ اس عالم اسباب میں لازمی شکست ہے۔ اس کے برعکس خدا پر بھروسہ سب سے بڑی طاقت پر بھروسہ ہے۔ اس سے آدمی کے اندر تواضع کا جذبہ ابھرتا ہے۔ وہ انتہائی حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اور حقیقت پسندی بلاشبہ تمام کامیابیوں کی جڑ ہے۔

ابتداً جب یہ حکم آیا کہ حرم میں مشرکین کا داخلہ بند کر دو تو مسلمانوں کو تشویش ہوئی کیونکہ غیر زرعی ملک ہونے کی وجہ سے عرب کی اقتصادیات کا انحصار تجارت پر تھا اور تجارت کی بنیاد ہمیشہ مشرکہ تعلقات پر ہوتی ہے۔ مسلمانوں نے سوچا کہ جب حرم میں مشرکین کا آنا بند ہو گا تو ان کے ساتھ تجارتی رشتے بھی ٹوٹ جائیں گے۔ مگر ان کی نظر اس امکان پر نہیں تھی کہ آج کے مشترک کل کے مسلمان ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ یہی ہوا۔ عربوں کے عمومی طور پر اسلام قبول کر لینے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں دوبارہ نئی صورت سے بحال ہو گئیں۔ نیز اس ابتدائی قربانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالا خر اسلام ایک بین الاقوامی دین بن گیا۔ جو معاشی دروازے مقامی سطح پر بند ہوتے نظر آتے تھے وہ عالمی سطح پر کھل گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page