معلومات نہیں، ذہنی رجحان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۵
تذکیر القرآن التوبة ۹ اے ایمان والو! اہلِ کتاب کے اکثر علماء اور مشائخ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو ایک درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دو۔ اس دن اس مال پر دوزخ کی آگ دہکائی جائے گی۔ پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی۔ یہی ہے وہ جس کو تم نے اپنے واسطے جمع کیا تھا۔ پس اب چکھو جو تم جمع کرتے رہے۔ ۳۵-۳۷ دوسرے کا مال لینے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کو حق کے مطابق لیا جائے۔ یعنی آدمی دوسرے کی کوئی واقعی خدمت کرے یا اس کو کوئی حقیقی نفع پہنچائے اور اس کے بدلے میں اس کا مال حاصل کرے۔ یہ بالکل جائز ہے۔ باطل طریقے سے دوسرے کا مال لینا یہ ہے کہ دوسرے کو دھوکے میں ڈال کر اس کا مال حاصل کیا جائے۔ یہ دوسرا طریقہ ناجائز ہے اور خدا کے غضب کو بھڑکانے والا ہے۔
باطل طریقہ سے دوسرے کا مال کھانا وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں استغلال (Exploitation) کہا جاتا ہے۔ یہود کے اکابر بہت بڑے پیمانہ پر اپنے عوام کا مذہبی استغلال کر رہے تھے۔ وہ عوام میں ایسی جھوٹی کہانیاں پھیلائے ہوئے تھے جس کے نتیجہ میں لوگ بزرگوں سے غیر معمولی امیدیں وابستہ کریں اور پھر ان کو بزرگ سمجھ کر ان کی برکت لینے کے لئے آئیں اور انہیں ہدئے اور نذرانے پیش کریں۔ وہ خدا کے دین کی خدمت کے نام پر لوگوں سے رقیس وصول کرتے تھے حالاں کہ جو دین وہ لوگوں کے درمیان تقسیم کر رہے تھے وہ ان کا اپنا بنایا ہوا دین تھا نہ کہ حقیقتاً خدا کا اتارا دین۔ وہ ملت یہود کے احبار کے نام پر بڑے بڑے چندے وصول کرتے تھے حالانکہ احبار ملت کے نام پر وہ جو کچھ کر رہے تھے وہ صرف یہ تھا کہ لوگوں کو خوش خیالیوں میں الجھا کر انھیں اپنی قیادت کے لئے استعمال کرتے رہیں۔ وہ تعویذ گنڈے میں پر اسرار اوصاف بتا کر ان کو لوگوں کے ہاتھوں فروخت کرتے تھے۔ حالاں کہ ان کا حال یہ تھا کہ خود اپنے نازک معاملات میں وہ کبھی ان تعویذ گنڈوں پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔
آدمی کے پاس جو مال آتا ہے اس کے دو ہی جائز مصرف ہیں۔ اپنی واقعی ضرورتوں میں خرچ کرنا ، اور جو کچھ واقعی ضرورت سے زائد ہو اس کو خدا کے راستہ میں دے دینا۔ اس کے علاوہ جو طریقے ہیں وہ سب آدمی کے لئے عذاب بننے والے ہیں۔ خواہ وہ اپنے مال کو فضول خرچیوں میں اڑاتا ہو یا اس کو جمع کر کے رکھ رہا ہو۔ جو لوگ یہود کی طرح خود ساختہ مذہب کی بنیاد پر کسی گروہ کے اوپر اپنی قیادت قائم کئے ہوئے ہوں اور خدا کے دین کے نام پر لوگوں کا استغلال کر رہے ہوں وہ کسی ایسی دعوت کو سخت ناپسند کرتے ہیں جو خدا کے سچے اور بے آمیز دین کو زندہ کرنا چاہتی ہو۔ ایسے دین میں انھیں اپنی مذہبی حیثیت بے اعتبار ہوتی نظر آتی ہے۔ انھیں دکھائی دیتا ہے کہ اگر اس کو عوام میں فروغ حاصل ہوا تو ان کی مذہبی تجارت بالکل بے نقاب ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے گی۔ وہ ایسی تحریک کے اٹھتے ہی اسے سونگھ لیتے ہیں اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues