Al-Risala · December 1981 · page 26

معلومات نہیں، ذہنی رجحان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۶

تذکیر القرآن التوبه ۹ مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی ہے سیدھا دین۔ پس ان میں تم اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔ مہینوں کا ہٹا دینا کفر میں ایک اضافہ ہے۔ اس سے کفر کرنے والے گمراہی میں ٹپڑے ہیں۔ وہ کسی سال حرام مہینہ کو حلال کر لیتے ہیں اور کسی سال اس کو حرام کر دیتے ہیں تاکہ خدا کے حرام کئے ہوئے کی گنتی پوری کر کے اس کے حرام کئے ہوئے کو حلال کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے لئے خوش نما بنا دئے گئے ہیں۔ اور اللہ انکار کرنے والوں کو راستہ نہیں دکھاتا ۳۶-۳۷ دینی احکام پر ہر شخص الگ الگ بھی عمل کر سکتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ تمام اہل ایمان ایک ساتھ ان پر عمل کریں تاکہ ان میں اجتماعیت پیدا ہو۔ اسی اجتماعیت کے مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر عبادات کی ادائیگی کے لئے متعین اوقات اور تاریخیں مقرر کی گئی ہیں۔ یہ تاریخیں اگر شمسی کیلنڈر کے اعتبار سے رکھی جائیں تو ان کے زمانہ میں یکسانیت آجاتی۔ مثلاً روزہ ہمیشہ ایک موسم میں آتا اور حج ہمیشہ ایک موسم میں۔ مگر یکسانیت آدمی کے اندر جمود پیدا کرتی ہے اور تبدیلی سے نئی قوت عمل بیدار ہوتی ہے۔ اس بنا پر دینی امور کے اجتماعی نظام کے لئے چاند کا قدرتی کیلنڈر اختیار کیا گیا۔

اسی اصول کی وجہ سے حج کی تاریخیں مختلف موسموں میں آتی ہیں، کبھی سردیوں میں اور کبھی گرمیوں میں۔ قدیم زمانہ میں جب کہ حج کا اجتماع زبردست تجارتی اہمیت رکھتا تھا، مختلف موسموں میں حج کا آنا تجارتی اعتبار سے مضر معلوم ہوا۔ اہل عرب کو دینی مصلحتوں کے مقابلہ میں دنیوی مصلحتیں زیادہ اہم نظر آئیں۔ انھوں نے چاہا کہ ایسی صورت اختیار کریں کہ حج کی تاریخ ہمیشہ ایک ہی موافق موسم میں پڑے۔ اس موقع پر یہود و نصاریٰ کا کلیسہ کا حساب ان کے علم میں آیا۔ اپنی خواہشوں کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے وہ ان کو پسند آ گیا اور انھوں نے اس کو اپنے یہاں رائج کر لیا۔ یعنی مہینوں کو ہٹا کر ایک کی جگہ دوسرے کورکھ دینا۔ مثلاً محرم کو صفر کی جگہ کر دینا اور صفر کو محرم کی جگہ۔ نسی کے اس طریقہ سے اہل عرب کو دو فائدے ہوئے۔ ایک یہ کہ حج کے موسم کو تجارتی تقاضے کے مطابق کر لینا ۔ دوسرے یہ کہ حرام مہینوں (محرم، رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ) میں کسی کے خلاف لڑائی چھیڑ نا ہو تو حرام مہینہ کی جگہ غیر حرام مہینہ رکھ کر لڑائی کو جائز کر لینا۔ اہل عرب کے سامنے حضرت ابراہیم کا طریقہ بھی تھا۔ مگر ان کے ذہن پر چونکہ تجارتی مقاصد اور قبائلی تقاضوں کا غلبہ تھا، اس لئے ان کو نسئی کا طریقہ زیادہ اچھا معلوم ہوا اور انھوں نے اپنے معاملات کے لئے اس کو اختیار کر لیا۔

"تم بھی مل کر لڑ و جس طرح وہ مل کر لڑتے ہیں" اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ خدا سے بے خوفی پر متحد ہو جاتے ہیں، تم خدا سے خوف (تقوی) پر متحد ہو جاؤ۔ وہ منفی مقاصد کے لئے باہم جڑ جاتے ہیں تم مثبت مقاصد کے لئے آپس میں جڑ جاؤ۔ وہ دنیا کی خاطر ایک ہو جاتے ہیں تم آخرت کی خاطر ایک ہو جاؤ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page