Al-Risala · December 1981 · page 31

کل کو یاد رکھئے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۱

کل کو یاد رکھئے

ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم آخرت کے مسافر ہیں۔ ہماری موجودہ زندگی ہماری اصل زندگی کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔ ہم بہت جلد اپنی مستقل زندگی کے مرحلہ میں داخل ہونے والے ہیں۔ اس حقیقت واقعہ کو یاد رکھنا اور آج کی دنیا کے نفع نقصان کے بجائے آنے والی ابدی دنیا کے نفع نقصان کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا، اسی کا نام دین یا اسلامی زندگی ہے۔

دوسروں کے مقابلہ میں آپ کو کوئی بڑائی یا عزت مل جائے تو دوسروں کو حقیر نہ سمجھے۔ کیونکہ بڑے اور چھوٹے دونوں بالآخر برابر ہو جانے والے ہیں۔ اس کے بعد بڑائی اسی کے لئے ہوگی جس کو خدا بڑا بنائے اور چھوٹا وہ ہوگا جو خدا کے نزدیک چھوٹا قرار پائے۔

کسی نے اپنی دنیوی زندگی کو کامیاب بنا لیا ہو تو اکثر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کی آخرت بھی ضرور کامیاب رہے گی۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی لازمی تعلق نہیں۔

اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ کل ان کا کیا انجام ہونے والا ہے تو ان کا آج ان کے لئے بے لذت ہو جائے۔ یہ آنے والے کل سے بے خبری ہے جس نے لوگوں کے آج کو ان کے لئے لذیذ بنا رکھا ہے ۔

جب کسی سے معاملہ پڑتا ہے تو آدمی ایک جواب دے کر مطمئن ہو جاتا ہے۔ اگر اس کو احساس ہو کہ آخری جواب کسی انسان کو نہیں بلکہ خدا کو دینا ہے تو وہ بولنے کے بجائے چپ رہنا پسند کرے۔ آج لوگوں کے لئے سب سے آسان کام بولنا ہے اور سب سے مشکل کام چپ رہنا۔ مگر بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب کہ بولنا اتنا سنگین کام معلوم ہوگا کہ لوگ سوچیں گے کہ کاش وہ ساری عمر چپ رہتے، کاش انھوں نے اپنے ہونٹوں کو سی لیا ہوتا۔

ہر آدمی اپنے آج میں الجھا ہوا ہے، کسی کو اپنے کل کی خبر نہیں۔ حالاں کہ موت ہر روز ہمارے آج کو باطل کر کے یہ ثابت کر رہی ہے کہ آج کی اور آج کی چیزوں کی اس کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page