Al-Risala · December 1981 · page 30

معلومات نہیں، ذہنی رجحان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰

اگر یہ لوگ تمھارے ساتھ نکلتے تو وہ تمھارے لئے خرابی ہی بڑھانے کا باعث بنتے اور وہ تمھارے درمیان فتنہ پردازی کے لئے دوڑ دھوپ کرتے اور تم میں ان کی سننے والے ہیں اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے۔ یہ پہلے بھی فتنہ کی کوشش کر چکے ہیں اور وہ تمھارے لئے کاموں کا الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا حکم ظاہر ہو گیا اور وہ ناخوش ہی رہے۔

دین کو اختیار کرنا ایک مخلصانہ ہوتا ہے اور دوسرا منافقانہ ، مخلصانہ طور پر دین کو اختیار کرنا یہ ہے کہ دین کے مسئلہ کو آدمی اپنی زندگی کا مسئلہ بنائے ، اپنی زندگی اور اپنے مال پر وہ سب سے زیادہ دین کا حق سمجھے۔ اس کے برعکس منافقانہ طور پر دین کو اختیار کرنا یہ ہے کہ دین سے بس رسمی اور ظاہری تعلق رکھا جائے ۔ دین کو آدمی اپنی زندگی میں یہ مقام نہ دے کہ اس کے لئے وہ وقف ہو جائے اور ہر قسم کے نقصان کا خطرہ مول لے کر اس کی راہ میں آگے بڑھے۔

اپنی غلطی کو ماننا اپنے کو دوسرے کے مقابلہ میں کمتر تسلیم کرنا ہے اور اس قسم کا اعتراف کسی آدمی کے لئے مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے موقف کو صحیح ثابت کر دے۔ چنانچہ منافقانہ طور پر اسلام کو اختیار کرنے والے ہمیشہ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کوئی موقع ملے تو مخلص مومنوں کو مطعون کریں اور ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو زیادہ درست ثابت کر سکیں۔ مدینہ کے منافقین مسلسل اس کوشش میں رہتے تھے۔ مثلاً غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مدینہ میں بیٹھ رہنے والے منافقین نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ ان کو معاملات جنگ کا تجربہ نہیں ہے۔ انھوں نے جوش کے تحت اقدام کیا اور ہماری قوم کے جوانوں کو غلط مقام پر لے جا کر خواہ مخواہ کٹوا دیا انسانوں میں کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مسائل کا گہرا تجزیہ کر سکیں اور اس حقیقت کو جانیں کہ کسی بات کا قواعد زبان کے اعتبار سے صحیح الفاظ میں ڈھل جانا اس کا کافی ثبوت نہیں ہے کہ وہ بات معنی کے اعتبار سے بھی صحیح ہوگی۔ بیشتر لوگ سادہ فکر کے ہوتے ہیں اور کوئی بات خوبصورت الفاظ میں کہی جائے تو بہت جلد اس سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس بنا پر کسی مسلم گروہ میں منافق قسم کے افراد کی موجودگی ہمیشہ اس گروہ کی کمزوری کا باعث ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنے کو درست ثابت کرنے کی کوشش میں اکثر ایسا کرتے ہیں کہ باتوں کو غلط رخ دے کر ان کو اپنے مفید مطلب رنگ میں بیان کرتے ہیں۔ اس سے سادہ فکر کے لوگ متاثر ہو جاتے ہیں اور ان کے اندر غیر ضروری طور پر شبہ اور بے یقینی کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔

منافقین کی مخالفانہ کوششوں کے باوجود جب بدر کی فتح ہوئی تو عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا: انّ هذا امر قد توجّه یعنی یہ چیز تو اب چل نکلی۔ اسلام کا غلبہ ظاہر ہونے کے بعد انہیں اسلام کی صداقت پر یقین کرنا چاہئے تھا مگر اس وقت بھی انھوں نے اس سے حسد کی غذا لی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page