Al-Risala · December 1981 · page 33

برتر اخلاقیات

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۳

برتر اخلاقیات

قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہوا ہے : إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقِ عَظِيمِ (تم ایک اعلیٰ کردار پر ہو) امام عطیہ نے خُلقِ عظیم کی تفسیر ادبِ عظیم سے کی ہے (تفسیر ابن کثیر) یہ بلند اخلاق اور اعلیٰ کردار کیا ہے، اس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقوال سے ہوتی ہے :

عن حذيفة قال قال رسول الله صلى الله عليه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ امعہ نہ بنو، وسلم لا تكونوا اِمّعَةً تقولون إن أحسن الناس یہ کہنے لگو کہ لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا أحسنا وإن أساؤ اظلمنا ولكن وطنوا أنفسكم سلوک کریں گے۔ اور لوگ برا کریں گے تو ہم بھی ان کے ان احسن الناس ان تحسنوا وإن اساوا فلا ساتھ ظلم کریں گے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کا خوگر بناؤ کہ تظلموا (مشكوة باب الظلم) لوگ اچھا سلوک کریں تب بھی تم اچھا سلوک کرو اور لوگ برا سلوک کریں تو تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : صل من جو تم سے کٹے تم اس سے جُڑو۔ جو تم پر ظلم کرے تم اس کو قَطَعَكَ واعف عَمَّنْ ظَلَمَكَ واحسن الى من معاف کر دو اور جو تمھارے ساتھ برا سلوک کرے تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔

یہ اعلیٰ اخلاق جو حدیث میں بتایا گیا ہے اس اخلاق میں آپ بلند ترین مرتبہ پر تھے۔ عام مسلمانوں سے یہ اعلیٰ اخلاق عزیمت کے درجہ میں مطلوب ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ لازم تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جُڑوں، جو مجھ کو نہ دے میں اسے دوں، جو مجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف کردوں (امرنی ربی بتسع - - - وان ا صل من قطعنی واعطی من حرمنی واعفومن ظلمنی) اخلاق کی دو سطحیں ہیں۔ ایک معمولی سطح اور دوسری برتر سطح۔ اخلاق کی معمولی سطح یہ ہے کہ آدمی کا اخلاق جوابی اخلاق ہو " جو مجھ سے جیسا کرے گا میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی کروں گا، یہ اس کا اصول ہو جو شخص اس سے کٹے وہ بھی اس سے کٹ جائے۔ جو شخص اس پر ظلم کرے وہ بھی اس پر ظلم کرنے لگے۔ جو شخص اس کے ساتھ برائی کرے وہ بھی اس کے لئے بُرا بن جائے۔

یہ عام اخلاق ہے۔ اس کے مقابلہ میں برتر اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویہ کی پروا کئے بغیر اپنا رویہ متعین کرے ۔ اس کا اخلاق اصولی ہو نہ کہ جوابی۔ اعلیٰ اخلاقیات اس کا ایک عام اصول ہو جس کو وہ ہر جگہ برتے، خواہ معاملہ موافق کے ساتھ ہو یا مخالف کے ساتھ ۔ وہ جڑنے والا ہو حتی کہ اس سے بھی جو اس سے قطع تعلق کرے۔ وہ بہتر سلوک کرنے والا ہو حتی کہ اس کے ساتھ بھی جو اس سے برا سلوک کرے۔ وہ نظر انداز کرنے والا ہو حتیٰ کہ اس سے بھی جو اس پر ظلم کرتا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page