Al-Risala · December 1981 · page 34

مقام عبديت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۴

مقام عبديت

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ خلافت کے زمانہ میں ایک روز وہ اپنے گھر پر تھے اور معمولی گھریلو کام کر رہے تھے جو عام طور پر خادموں کے کرنے کا ہوتا ہے۔ عین اس وقت عرب کے کچھ بڑے لوگ آپ سے ملاقات کے لئے آئے۔ خلیفہ وقت کو ایک معمولی کام میں مشغول دیکھ کر انھوں نے کہا: آپ نے کسی عبد (غلام سے یہ کام لے لیا ہوتا۔ حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا: اَیُّ عَبْدٍ اَعْبُدُ (منی مجھ سے زیادہ غلام اور کون ہوسکتا ہے! حضرت عمر کا یہ جواب بتاتا ہے کہ جو کام وہ کر رہے تھے وہ ان کے لئے محض ایک خشک کام نہ تھا بلکہ ان کی روح اس میں لذت پارہی تھی۔ انکساری اگر نمائش نہ ہو بلکہ حقیقی ہو تو وہ آدمی کے لئے لذیذ ترین چیز ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی اصل حیثیت کا اعتراف ہوتی ہے ۔ بندہ جب تواضع اور انکساری کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ خدا کے قریب ترین ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا کے دربار میں کسی بندہ کے لئے جو سب سے قریبی نشست ہے وہ تواضع ہی ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ بندہ اپنے رب سے اس وقت سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے جب کہ وہ سجدہ میں ہوتا ہے (اقرب ما يكون العبد من ربا وہو سا جد، رواه مسلم )

شعوری سجدہ ہستی اور بے نفسی کی آخری حالت ہے۔ بندہ جب حقیقی سجدہ میں ہو تو وہ اس قریب ترین مقام پر ہوتا ہے جہاں کوئی انسان خدا کی بارگاہ میں پہنچ سکتا ہے۔

لوگوں کو عبدیت کے مقام کی خبر نہیں، یہی وجہ ہے کہ عبدیت ان کے لئے لذیذ چیز نہیں بنی۔ لوگ امتیاز میں جیتے ہیں پھر مسادات کی لذت کو وہ کس طرح پائیں۔ لوگ اپنی انا میں جیتے ہیں پھر خدا کی کبریائی کے اعتراف کی لذت انھیں کیسے ملے ۔ لوگ دوسروں کو غلط ثابت کرکے خوش ہونا چاہتے ہیں پھر انھیں اپنے غلطی کو جاننے اور ماننے کی خوشی کیسے حاصل ہو۔ لوگ اپنے کو ایک پیمانہ سے ناپتے ہیں اور دوسروں کو دوسرے پیمانہ سے پھر وہ کیسے جانیں کہ اپنے لئے اور دوسروں کے لئے ایک پیمانہ رکھنا اتنی بڑی دولت ہے کہ دنیا کی تمام دولتیں اس پر قربان کی جاسکتی ہیں ۔

مومن وہ ہے جس کے لئے دینی عمل ہی سب سے بڑی لذت بن جائے ۔ صرف ذکر اور عبادت کے معاملہ میں نہیں بلکہ ہر معاملہ میں۔ حسد کے جذبات کو کچلنا، انتقام کی آگ کو بجھانا، گروہی عصبیت سے اپنے کو اوپر اٹھانا ، اختلاف کے باوجود انصاف کرنا، خوشامد کے بجائے حق کی بنیاد پر انسان کی قدر کرنا، یہ سب چیزیں اس کے لئے اس طرح لذیذ بن جائیں کہ ان کو چھوڑنا اس کے لئے ممکن نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page