الفاظ کم ہ جاتے ہیں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۶
دنیا اور آخرت
انسان کی سب سے بڑی طلب کیا ہے۔ یہ کہ اس کو خوشیوں سے بھری ہوئی ایک زندگی حاصل ہو۔ یہی ہر زمانہ میں آدمی کا سب سے بڑا خواب رہا ہے۔ ہر آدمی اسی تمنا کو لے کر جیتا ہے۔ مگر ہر آدمی اس تمنا کی تکمیل کے بغیر مر جاتا ہے۔ سارے فلسفے اور نظریات، تمام انسانی کوششیں اسی ایک چیز کے گرد گھوم رہی ہیں۔ مگر آج تک انسان نہ فکری طور پر اس کو دریافت کر سکا اور نہ عملی طور پر اس منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکا۔
اس ناکامی کی وجہ صرف ایک ہے۔ تمام لوگ اپنے خواب کی تعبیر اسی موجودہ دنیا میں پانا چاہتے ہیں۔ مگر ہزاروں برس کے تجربہ نے صرف ایک چیز ثابت کی ہے۔ یہ کہ موجودہ دنیا اس آرزو کی تکمیل کے لئے ناکافی ہے۔ موجودہ دنیا کی محدودیت، موجودہ دنیا میں انسانی آزادی کا غلط استعمال انتہائی فیصلہ کن طور پر اس میں مانع ہے کہ موجودہ دنیا انسانی خوابوں کی تعبیر بن سکے۔
ہم زندگی کو کامیاب بنانے کی طرف ابھی سفر کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم کو موت آ جاتی ہے۔ ہم مشینی ترقیاں وجود میں لاتے ہیں مگر صنعتی مسائل پیدا ہو کر ساری ترقی کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ ہم بے پناہ قربانیاں کر کے ایک سیاسی نظام کو وجود میں لاتے ہیں مگر اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والوں کا بگاڑ اس کو عملاً بے نتیجہ بنا دیتا ہے۔ ہم اپنی پسند کے مطابق ایک زندگی بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر دوسرے انسانوں کا بغض، حسد، گھمنڈ، ظلم اور انتقام ظاہر ہو کر ہم کو الجھا لیتا ہے اور ہم اپنے آشیانہ کو خود اپنی آنکھوں سے بکھرتا ہوا دیکھ کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
مسلسل تجربات ثابت کرتے ہیں کہ ہمارے خوابوں کی دنیا موجودہ زمینی حالات میں نہیں بن سکتی۔ اس کے لئے دوسری دنیا اور دوسرے حالات درکار ہیں۔ آدمی کی تمنائیں بجائے خود ایک حقیقی انسانی طلب ہیں۔ مگر اس طلب کی تکمیل کی جگہ موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا ہے نہ کہ موت سے پہلے کی موجودہ دنیا۔ یہی واحد چیز ہے جو ہماری دنیا کی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔ اس کے بعد موجودہ دنیا جدوجہد کی دنیا بن جاتی ہے اور اگلی دنیا جدوجہد کا انجام پانے کی دنیا۔ اس کے بعد آدمی اپنی وہ منزل پا لیتا ہے جس کی طرف وہ مطمئن ہو کر بڑھ سکے۔ موجودہ دنیا کو منزل سمجھنے کی صورت میں آدمی بالآخر مایوسی اور انتشار ذہنی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچتا۔ جب کہ آخرت کی دنیا کو منزل سمجھنے کا عقیدہ اس کے سامنے ابدی سکون کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں کھونے کے سوا اور کچھ نہ ہو وہاں وہی نظریہ صحیح ہو سکتا ہے جو کھونے میں پانے کا راز بتا رہا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues