کیسا عجیب
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۷
کیسا عجیب
کرناٹک کے گورنر مسٹر گووند ٹرائن کی لڑکی نندنی کی عمر ابھی صرف ۳۸ سال تھی کہ ۱۶ ستمبر ۱۹۸۱ کو نئی دہلی میں اس کا انتقال ہو گیا۔ ایک ہنستی ہوئی زندگی اچانک خاموش ہوگئی۔ نندنی بہت ذہین اور تندرست تھی ۔ اس کی تعلیم خالص انگریزی طرز پر ہوئی ۔ اس کے بعد اس نے امریکہ سے جرنلزم (صحافت) کی ڈگری حاصل کی ۔ وہ ہندوستان ٹائمس میں سینیر رپورٹر تھی۔ اپنی مختلف خصوصیات کی وجہ سے نندنی اپنے اخباری ساتھیوں کے درمیان بہت مقبول تھی ۔ اس کے ایک ساتھی کے الفاظ میں نندنی کی زندگی کا نظریہ یہ تھا :
She loved life to the full and wanted to live it to the full وہ زندگی سے آخری حد تک پیار کرتی تھی اور زندگی کے ساتھ آخری حد تک رہنا چاہتی تھی ۔ نندنی کی وفات پر اس کے ساتھی رپورٹروں نے ایک یاد داشت (ہندوستان ٹائمس ۱۷ ستمبر ۱۹۸۱) شائع کی ہے۔ اس یاد داشت کے خاتمہ پر وہ لکھتے ہیں ـــــــــ نندنی کی موت اس حقیقت کی ایک بے رحم یاد دہانی ہے کہ ہر آدمی کا ایک بے حد مقرر وقت ہے :
It is a cruel reminder of the fact that there is a deadline for everyone. کیسی عجیب بات ہے۔ ایک جیتی جاگتی زندگی اچانک بجھ جاتی ہے۔ ایک ہنستا ہوا چہرہ ایک لمحہ میں اس طرح ختم ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ مٹی سے بھی زیادہ بے قیمت تھا۔ حوصلوں اور تمناؤں سے بھری ہوئی ایک روح دفعہ اس طرح منظر سے ہٹا دی جاتی ہے جیسے اس کے حوصلوں اور تمناؤں کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی ۔
زندگی کس قدر با معنی ہے ۔ مگر اس کا انجام اس کو کس قدر بے معنی بنا دیتا ہے۔ آدمی بظاہر کتنا آزاد ہے مگر موت کے سامنے وہ کتنا مجبور نظر آتا ہے۔ انسان اپنی خواہشوں اور تمناؤں کو کتنا زیادہ عزیز رکھتا ہے ، مگر قدرت کا فیصلہ اس کی خواہشوں اور تمناؤں کو کتنی بے رحمی سے کچل دیتا ہے۔ آدمی اگر صرف اپنی موت کو یاد رکھے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے ۔ کامیاب اجتماعی زندگی کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی اپنی حد کے اندر رہنے پر راضی ہو جائے اور موت بلاشبہ اس حقیقت کی سب سے بہتر معلم ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues